کوئٹہ: مکران سوشل ایکٹیوسٹس کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مکران کے دیہی علاقوں میں صحت کا نظام انتہائی غیرتسلی بخش ہے۔علاقے میں درجنوں مراکز صحت مکمل غیرفعال ہیں جہاں تعینات ڈاکٹر اور اسٹاف ڈیوٹی سے غیرحاضر ہیں۔ علاقے میں جعلی ڈاکٹرز اور غیرتربیت یافتہ میڈیکل ٹیکنیشن عوام کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر سرکاری ادویات کو مہنگے داموں فروخت کررہے ہیں۔
ترجمان نے کہا ہے کہ علاقے میں بنیادی سہولت صحت نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ حاملہ خواتین کی ڈلیوری کیسز میں موت واقع ہوجاتی ہے جبکہ معمولی سی حادثے پر لوگوں کو شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔سرکاری مراکز صحت کے نام پر آنے والے کروڈوں روپے کی ادویات کو ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے پرائیوٹ کلینکوں میں فروخت کیاجارہا ہے۔ ایک سرنج کو تین سو روہے۔
جبکہ ایک سو والے ڈرپس کو 700روپے میں عوام کو فروخت کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ علاقے میں موجود پرائیوٹ کلینک مالکان اور جعلی ڈاکٹرز مجبور لوگوں سے فائدہ اٹھاکر ناانصافی کررہے ہیں۔علاقے میں تعینات فارمیسسٹ آفیسرز اور ڈرگ انسپکٹر فیلڈ کے بجائے گھروں میں بیٹھ کر تنخواہ وصول کررہے ہیں۔
ترجمان نے کہا ہے کہ مکران سوشل ایکٹیوسٹس حکومت بلوچستان اور ہلیتھ ڈیپارٹمنٹ ست اپیل کرتی ہیکہ علاقے میں غیرفعل مراکز صحت کوفعال کرکے جعلی ڈاکٹروں اور سرکاری ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔