|

وقتِ اشاعت :   November 13 – 2020

کوئٹہ: امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاکہ نااہل حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث ملک میں غربت،مہنگائی اور بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے۔ غریب اور مزدور طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ مسلسل ٹیکس لگانے،اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرنے اور بڑی تعداد میں قرض لینے کے باوجود معیشت کاپہیہ رواں دواں ہوسکاہے اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی تبدیلی نظر آرہی ہے۔

تبدیلی کے نام پر قوم کو بے وقوف بنایا گیا۔بلوچستا ن کو تباہ کرنے والوں نے حساب دینا ہوگا سرمایہ داروں کی حکومت میں غرباء ومساکین کا کوئی سننے والا نہیں۔جماعت اسلامی ہی مظلوم وغریب اور پسے ہوئے طبقے کو حقوق دلاکر پاکستان کو اسلامی بنائیگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے ڈھائی برسوں میں قرض لینے کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔

اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہاہے، جبکہ اسی رفتار سے قرضے حاصل کرنے کاسلسلہ جاری رہاتو ملکی معیشت سنبھلنے کی بجائے دیوالیہ ہوجائے گی۔انہوں نے کہاکہپی ٹی آئی حکومت سے عوام کو کسی قسم کاکوئی ریلیف نہیں ملا،عوامی مسائل کم ہونے کے بجائے الٹا ان میں اضافہ ہوا ہے۔ افسوس ناک امر تویہ ہے کہ حکومتی وزراء مسلسل غلط بیانیاں کرکے قوم کے جذبات کومجروح کررہے ہیں۔

موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کی طرح عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوتی نظرآرہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک میں مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں مگر حکمرانوں کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ طرزعمل اختیارکرنے اورجھوٹ بولنے کاسلسلہ ختم نہیں ہورہا۔حکمرانوں نے اگر اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادانہیں کرنی اور عوامی مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل نہیں کرنا تو انہیں برسراقتدار رہنے کاکوئی حق نہیں۔

ملک کو آگے بڑھانے کے لیے وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کو سنجیدگی کامظاہرہ کرنا ہوگا۔محض بیان بازی کرکے اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں کے ذریعے ملک وقوم کو درپیش مسائل حل نہیں ہوسکتے۔