|

وقتِ اشاعت :   November 13 – 2020

کوئٹہ: جمعیت علما اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ مریم نواز ووٹ کوعزت دیتے دیتے بوٹ کی عزت تک پہنچ گئی ہیں، جن کو تمام خرابیوں کی جڑ قرار دیا گیا تھا آج ان سے اقتدار کی بھیک مانگنا اپنی تھوک چاٹنے والی بات ہوگی، میاں نوازشریف ماضی میں جنرل مشرف اور اب جنرل باجوہ سے صحت کے حوالے سے این آر او لے چکے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کا ایک ہی عالمی نشریاتی ادارے کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دئیے گئے انٹرویوز سے لندن پلانسامنے آچکا ہے اب پی ڈی ایم کی قابل احترام قیادت کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی۔ جمعہ کے روز اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں مختلف وفود اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ محترمہ مریم نوازصاحبہ ووٹ کوعزت دیتے دیتے بوٹ کی عزت تک پہنچ گئی ہیں۔

میاں نواز شریف نے پی ڈی ایم کے کوئٹہ کے جلسہ میں اپنی تقریر میں براہ راست آرمی چیف جنرل باجوہ اور جنرل فیض پر سنگین الزام لگائے اور تمام تر خرابیوں کی جڑ انہیں قرار دیکر دس بار ان کا نام لیا لیکن آج وہی جنرل باجوہ اور جنرل فیض سے اقتدار کی بھیک مانگ رہے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان کا وہ اقدام غلط تھا تو اب عمران خان کو ہٹانا اور ان کو لانا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے۔

یہ اپنی تھوک چاٹنے والی بات ہوگی ہم پہلے ہی سمجھتے تھے کہ ان تلوں میں تیل نہیں اور کاسمیٹک بیانات پائیدار نہیں رہ سکتے کیا این آر اور کی دم ہوتی ہے یہ فوج کو سیاسی معاملات میں مداخلت کی دعوت دیکر این آر او ہی مانگ رہے ہیں ماضی میں میاں نواز شریف جنرل مشرف سے این آر او لے چکے ہیں اور اب اب جنرل باجوہ اور جنرل فیض سے صحت کے حوالے سے فریب کاری کے ذریعے این آر او لیکر ملک سے سے باہر چکے گئے۔

اب کہاں گئی ان کی اصول پرستی؟ انہوں نے کہا کہ فوج کو براہ راست عمران حکومت کو ہٹانے اور انہیں اقتدار میں لانے کی بھیک عالمی نشریاتی ادارے پر مانگی گئی ہے جس کے بعدپی ڈی ایم کی قابل احترام قیادت کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی۔

حافظ حسین احمد نے میاں نواز شریف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ سوات میں جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے نام ہمت کرکے لیں اور کوئٹہ والی تقریر کرکے دکھائیں زیادہ نہیں چند بار ہی نام لیکر دکھائیں لیکن وہ اب کوئٹہ جلسے جیسی تقریر نہیں کرسکتے کیوں کہ ان کی ڈیل ہوچکی ہے۔