کوئٹہ: متحدہ لوکل بس ایسوسی ایشن نے حکومت بلوچستان کی جانب سے گرین بس منصوبہ شروع کرنے کو لوکل بس مالکان کا معاشی قتل قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹرز سے متعلق کوئی بھی منصوبہ انہیں قابل قبول نہیں اگر لوکل بس مالکان کو درپیش مشکلات اور ان کے مطالبات کو حل نہ کیا گیا تو 25نومبر سے لوکل بسیں بطور احتجاج کھڑی کردی جائیں گی۔
کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متحدہ لوکل بس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ اختر جان کاکڑ، چیئرمین محمد حنیف شاہوانی، صدر حاجی محمد اسحاق بازئی، جنرل سیکرٹری شیر احمد بلوچ ودیگر نے کہاکہ باقی صوبوں میں گرین بس منصوبے ناکام ہونے کے باوجود صوبائی حکومت اسے کوئٹہ شہر میں شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو کہ کوئٹہ میں ایک عرصے سے چلنے والی لاکل بس مالکان کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔
جسے وہ کسی صورت بھی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے مشرقی و مغربی بائی پاسز اور سریاب روڈ کو دوریہ کرنے سمیت دیگر مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ شہر میں اس وقت ساڑھے 6سو بسیں روز مرہ طلباء و طالبات، سرکاری ملازمین و دیگر مزدور پیشہ افراد کو شہر لانے اور گھروں تک لے جاتی ہیں۔
مگر اس کے باوجود بھی گرین بس کے نام سے منصوبہ شروع کیا جارہا ہے اگر ان کے مطالبات پر غور نہ کیا گیا تو 25نومبر 2020سے اپنی بسیں احتجاجاً کھڑی کردیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔