|

وقتِ اشاعت :   November 13 – 2020

کراچی: پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل نے بلوچستان سمیت ملک بھر میں بچوں میں غذائی قلت کے مسائل سے نمٹنے کیلئے ملک گیر پروگرام شروع کرنے پر اتفاق کا اظہار کیا ہے نیوٹریشن سے متعلق یہ قومی  پروگرام نہایت اہمیت کا حامل ہے جس پر عمل درآمد سے بچوں میں غذائی قلت کے مسائل پر بتدریج قابو پالیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نیوٹریشن سے متعلق ایک بریفنگ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بچوں میں غذائیت کی کمی سٹنٹنگ روکنے کے لیے ملک گیر پروگرام شروع کرنے پر اتفاق ہوا ہے اس پانچ سالہ نشونما پروگرام پر 350 ارب روپے لاگت آئے گی نشونما پروگرام کے لیے 50 فیصد رقم وفاق اور 50 فیصد رقم صوبے فراہم کریں گے۔

اس منصوبے کے تحت ملک کی 30۔فیصد آبادی نشونما پروگرام سے مستفید ہوگی اس کے علاوہ وفاقی حکومت غذائیت سے متعلق اضافی اجناس، ہیلتھ ورکرز کی استعداد سازی اور نگرانی فراہم کرے گی منصوبے کے تحت صوبائی حکومتیں ہیلتھ ورکرز، ٹارگٹ آبادی کی نشاندہی، پروگرام پر عمل درآمد میں حصہ لیں گی ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی بکھری آبادی میں غربت کے سائے تلے بچوں کی ایک بڑی تعداد  غذائیت کی کمی کے مسائل کا شکار ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی اور قومی  اداروں کے ساتھ ملکر بلوچستان میں نیوٹریشن کے پروگرامز کو منظم کیا جارہا ہے اور اس مقصد کے لئے موجودہ صوبائی حکومت نے پہلا نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ بھی قائم کردیا ہے جہاں نیوٹریشن سے متعلق کام کرنے والے تمام ادارے بہتر حکمت عملی سے کام کررہے ہیں۔

ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بلوچستان کا مقدمہ بہتر طور پر پیش کرنے اور زمینی حقائق کے مطابق مدلل دفاع پر وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سربراہ صوبائی حکومت کی مخلصانہ جدوجہد سے سی سی آئی میں بلوچستان کے موقف کو غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی اور وزیر اعظم نے بلوچستان کے موقف سے اتفاق کا اظہار کیا جو قومی سطح کے اس پلیٹ فارم پر بلوچستان  کے حقوق کے دفاع کی ٹھوس دلیل ہے۔