کوئٹہ: امیرجماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ اسلام کی حکمرانی،اسلامی نظام ہی ہمارے مسائل کا علاج اورحل ہے۔ قرار داد مقاصد،آئین پاکستان کی رہنمائی کو اس کی روح کے مطابق نافذ کیا جائے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں پاکستان کو اسلامی پاکستان بنانا جماعت اسلامی کا منزل ہے۔ بدعنوانی کا خاتمہ اوربلوچستان کو آئینی معاشی حقوق د ینے سے صوبے کے مسائل حل ہوسکتے ہے۔
انہوں نے کہاکہ معیشت کی بہتری کیلئے پاکستان میں سودی معیشت کے بجائے اسلام کا معاشی نظام نافذ کیا جائے،سود کاخاتمہ کرتے ہوئے قرضوں کی بیساکھیوں اور کشکول توڑاجائے یہی ملک و ملت کے مفاد میں ہے۔ اسی سے غربت کاخاتمہ ہوگا، عام آدمی کے لیے روزگار، تعلیم، علاج، رہائش کی فراہمی ممکن ہوگی۔ غریب عوام کو ریلیف دینے مہنگائی میں کمی کیلئے آٹا 25فیصد،چینی 49فیصد،گھی 30فیصد،پٹرول 30فیصد،گیس 40فیصد اور بجلی 35فیصد کم قیمتوں پر مہیا کی جائیں۔
تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکیں۔ ملک میں عوام کو انصاف کی فراہمی میں بہت مشکلات پیش آرہی ہے ستا، آسان نظام عدل ہر شہری کو انصاف مہیاکرناحکومت کی ذمہ داری ہے، امیر و غریب کے لیے ایک قانون، جج اور عدلیہ آزاد ہوں، نظام عدل سے کرپشن کا خاتمہ ہو، خواتین کے لیے جائیدادمیں وراثت کے حصول کا سہل نظام اور ہر شہری کی آزادی کاحق محفوظ ہو۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ احتساب کو حکومتی حمایت کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا بند کرکے سب کے احتساب یقینی بنایاجائے۔ افواج، سول بیوروکریسی، پولیس کو حکومتی، سیاسی، پارٹی مفادات کا نہیں ملک و ملت کی خدمت وحفاظت پر مامور کرناہے۔سول بیوروکریسی کو حکومتی نہیں عوام سے وفاداری کاپابند بنانا تاکہ سرکاری اداروں کے ملازمین بلاخوف قانون کا پابند،آزادانہ کردار ادا کریں۔عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کارشتہ بحال ہونا چاہئے۔