|

وقتِ اشاعت :   November 15 – 2020

کراچی: کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز نے علاقائی اور مقامی اخبارات کے لئے مخصوص 25 فیصد کوٹہ کے خاتمہ کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی، مقامی اور چھوٹے اخبارات صحافیوں کے لئے نرسری کی مانند ہیں جن کو اگر معاشی بندش کا سامنا کرنا پڑا تو ہزاروں صحافیوں اور میڈیا ملازمین نہ صرف بے روزگار ہو جائیں گے۔

بلکہ مقامی میڈیا کی عدم موجودگی کی وجہ سے مقامی مسائل مقامی قیادت اور مقامی معیشت کو بھی نقصان ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار ارشاد احمد عارف اور ڈاکٹر حافظ ثناء اللہ خان کی مشترکہ صدارت میں منعقدہ کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں ملک بھر سے اسٹینڈنگ کمیٹی کمیٹی کے اراکین نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ علاقائی، مقامی چھوٹے اور درمیانے درجے کے اخبارات ہزاروں مقامی صحافیوں اور میڈیا ملازمین کے لئے عملی درسگاہ کی حیثیت رکھتے ہیں جن کی معاشی بندش سے ملک میں ذمہ دار اور غیر جانبدار صحافت کے لئے تربیت یافتہ انسانی وسائل کی بھی کمی ہو جائے گی۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ حالانکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ علاقائی مقامی چھوٹے اور درمیانے درجے کے اخبارات ملکی صحافت کے لئے رنگ و خوشبو کا گلدستہ اور ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

اجلاس میں منظوری کی قرارداد میں مزید کہا گیا کہ حکومت اور ریاست کو علاقائی، مقامی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اخبارات و جرائد کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس امر کا ادراک کرنا چاہئے کہ ملک کے چند بڑے شہروں میں موجود مین اسٹریم میڈیا کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے سینکڑوں اضلاع، شہروں اور علاقوں میں پھیلے ہوئے متحرک اور حقیقی مقامی اخبارات و جرائد بھی معاشرے پر گہرا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

سی پی این ای نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری اشتہارات کی شفاف اور منصفانہ تقسیم اور علاقائی، مقامی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اخبارات کے لئے مختص 25 فیصد کوٹہ کو برقرار رکھتے ہوئے سرکاری اشتہارات کی شفاف و منصفانہ تقسیم کی پالیسی پر مکمل عملدرآمد کیا جائے تاکہ ملک بھر کے معاشی، سیاسی، سماجی اور شعوری ادراک کے لئے علاقائی و مقامی میڈیا اور اخبارات و جرائد اپنے اہم کردار کی ادائیگی جاری رکھ سکیں۔

اجلاس میں اے جی پی آر سے وینڈر اکاؤنٹس کے اجراء میں اخبارات کو درپیش مسائل، پی آئی ڈی بلوں کی عدم ادائیگیوں اور گزشتہ چند ماہ سے بلوچستان کے مقامی و حقیقی اخبارات کو سرکاری اشتہارات کے اجراء میں غیر منصفانہ طرز عمل پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اجلاس میں سی پی این ای کے سالانہ انتخابات کے حوالے سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ کورونا کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابات کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اجلاس میں سی پی این ای کے لئے رکنیت کی درخواستوں پر غور کرتے ہوئے درخواستوں کی جانچ پڑتال کے لئے صوبائی کمیٹیوں کو ارسال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ اس ضمن میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے تاکہ اخبارات رکنیت کے لئے شرائط و ضوابط پر پورا اترتے ہوں انہیں رکنیت حاصل ہو سکے۔ اجلاس میں سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک، نائب صدور سردار خان نیازی، ڈاکٹر حافظ ثناء اللہ خان، محمد حیدر امین، ارشاد احمد عارف۔

ڈپٹی سیکریٹری جنرل عامر محمود، سابق سیکریٹری جنرل اعجازالحق، سیکریٹری اطلاعات عبدالرحمان منگریو، جوائنٹ سیکریٹری غلام نبی چانڈیو، طاہر فاروق، عارف بلوچ، تنویر شوکت، سینئر اراکین ایاز خان، کاظم خان، مقصود یوسفی، ضیاء الرحمان تنولی، بشیر احمد میمن، خلیل الرحمان، محمود عالم خالد، محمد طاہر، احمد شفیق، محمد اویس رازی، محمد عرفان، شیر محمد کھاوڑ، وقاص طارق فاروق، یحییٰ خان سدوزئی، مشتاق احمد قریشی، اکمل چوہان اور منزہ سہام سمیت اسٹینڈنگ کمیٹی کے اراکین شریک ہوئے۔