|

وقتِ اشاعت :   November 27 – 2020

کوئٹہ: اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبد القدوس بز نجو کی زیر صدارت کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے گھمبیر مسائل پرایک اجلاس منعقد ہوا۔جس میں صوبائی وزیر خوراک سردار عبدالرحمن کھیتران، صوبائی وزیر زراعت زمرک خان اچکزئی، پارلیمانی سیکرٹری د ھنیش کمار، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ اور ایس پی ٹریفک نذیر احمد کرد نے شرکت کی۔ اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے کہا کہ بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے کوئٹہ کے شہری ذہنی مریض بن رہے ہیں۔

ٹریفک میں عوام گھنٹوں پھسے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ شہر میں سہولیات کی کمی ہے لیکن موجودہ حالات میں رہتے ہوئے شارٹ ٹرم منصوبوں کے تحت ٹریفک کے موجودہ مسائل کو بہت حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ ایس پی ٹریفک نے کہا کہ ٹریفک کے وائلیم کا بہت زیادہ ہونا، سڑکوں کی تنگی اور ٹریفک پولیس میں اہلکاروں کی کمی سب سے بڑے مسائل ہے۔

اسپیکر نے کہا کہ وزیر اعلی کے ساتھ ٹریفک پولیس کے مسائل، ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے قیام اور ٹریفک پولیس کی جانب سے جمع کی گئی تجاویز کی سفارش کرینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں ٹریفک ایس او پیز پر بلکل عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔

اسپیکر نے کہا کہ شہر میں بسنے والے ہر فرد قانون کی پاسداری، ٹریفک پولیس کے ساتھ تعاون کر کے ٹریفک مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آخر میں اسپیکر نے کہا کہ اہلکاروں کی تعداد کو بڑھانے کے لئے آئی جی سے بات کی جائے گی تاکہ اہلکاروں کی تعداد کو بڑھایا جائے اور عوام کو ریلیف پہنچائی جا سکے۔