کو ئٹہ: بلو چستان ہا ئی کورٹ کے جسٹس جناب جسٹس محمد کا مران ملا خیل اور جسٹس جناب جسٹس روزی خان بڑیچ پر مشتمل بنچ نے کو ئٹہ میں مختلف سڑکوں کی توسیع ،ڈرینیج لا ئن کی تعمیر و دیگر سے متعلق آئینی درخواست کی سما عت کے دوران ریلوے حکام سے این او سیز میں تاخیر پر بر ہمی کا اظہاراور تنبہہ کی ۔عدالت نے مو با ئل ٹاورز کے انسانی صحت اور ما حول پر اثرات سے متعلق تحقیق منعقد کر نے کی راہ ہموار کر نے اورپا کستان ٹیلی کیمونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے )انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے ) بلو چستان کو سیلو لر کمپنیوں ان کے بی ٹی ایس ٹا ورزکی جی پی ایس لو کیشن و دیگر سے متعلق علیحدہ علیحدہ رپور ٹس جمع کر نے کی ہدایت کی ۔
ڈویژنل بنچ کے روبرو گزشتہ روز ممتاز قانون دان سید نذیر آغا ایڈووکیٹ کی جا نب سے دائر آئینی درخواست کی سما عت شروع ہو ئی تو ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سر وسز بلو چستان نے ضلع کو ئٹہ کے نجی ہسپتالوں سے متعلق پروگریس رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ مختلف نجی ہسپتا لوں کو تنبہ نو ٹس بھجوائے گئے ہیںاور 7نجی ہسپتا لوں کے اچانک دورے بھی کئے گئے ہیں، رپورٹ کی کا پی اما ن اللہ کنرا نی ایڈووکیٹ کے حوالے کی گئی ۔
امان اللہ کنرا نی ایڈووکیٹ نے مہلت طلب کی اور کہا کہاس دوران وہ رپورٹ کا جا ئزہ لیں گے اور ضروری ہوا تو وہ اس سلسلے میں جواب بھی جمع کرا ئیں گے،سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی حکومت بلو چستان نے عدالتی احکاما ت کے تناظر میں پروگریس رپورٹ پیش کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بلو چستان بلڈنگ کو ڈ ریگو لیشن ، بلو چستان بلڈنگ اینڈ ٹائون پلا ننگ رولز 1979 سے متعلق حکومت نے کنسلٹنٹ کا انتظام کر نے کا فیصلہ کیا ہے۔
اوراس کی سفا رشات کی روشنی میں بلڈنگ کوڈ سے متعلق سمری تیار کی جا ئے گی پرا نے قوانین اور نئی سفا رشات کی روشنی میں خلا ف قانون قائم عما رتوں کا فیصلہ کیا جا ئے گا ، ڈپٹی کمشنر کو ئٹہ نے بھی سڑکوں ،تھڑوں سے تجا وزات ہٹا نے ، سر کی روڈ اور پرنس روڈ کی توسیع کی وضاحت سے متعلق رپورٹ جمع کرا ئی ،کمشنر کو ئٹہ ڈویژن عدالت میںپیش ہوئے اور بتا یا کہ زمین و دیگر کے بندوبست کے بعد دونوں سڑکوں کا تعمیرا تی کا م فوری طور پر شروع کر دیا جا ئے گا۔
انہوں نے رپورٹ جمع کرا ئی جس میں کہا گیا تھا کہ ریلوے لا ئن پھاٹک زرغون روڈ کی سیوریج لا ئنوں کو دوکا نی با با چوک ، جوائنٹ روڈ کو ئٹہ کے ساتھ ملا نے کے لئے ڈرینیج لا ئن با بت 5297980روپے کا چیک ڈویژنل اکائونٹ آفیسر ریلوے کو ئٹہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔پا کستان ریلوے کے نما ئندہ آصف ممتاز نے پیش ہو کر کہا کہ انہیں تین چار روز قبل مذکو رہ رقم ملی ہے مٹی کے تجزیے ،ڈیزائن دیگر کی منظوری کے بغیر ڈرینیج لا ئن کا تعمیراتی کا م شروع نہیں کیاسکتا ۔
عدالت نے عوامی مفاد کے کا م میں تعطل و سست روی کی بنا ء پر نا راضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ عدالت ہر سما عت پر عوامی مفاد کے لئے احکامات جا ری کر تی ہے عدم عمل در آمدکی صورت میں سربرا ہ منصو بہ کو عدالت میں طلب کیا جا ئے گا، بنچ کے ججز نے عدالتی احکاما ت اور ہدایا ت پر عمل در آ مد اور محکمہ ریلوے کے متعلقہ حکام کے پیش نہ ہو نے پربرہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ محکمہ ریلوے کے حکام عدالتی احکامات پر عمل در آمد کی راہ میں غیر ضروری طور پر روکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں ۔
کمشنر کو ئٹہ ڈویژن نے انسکمب روڈ کی کیلون روڈ ،جناح روڈ ،اور کواری روڈ کی جا نب توسیع سے متعلق رپورٹ پیش کی اس موقع پر عدالت کے استفسارپر محکمہ ریلوے کی جا نب سے بنچ کو بتا یا گیا کہ پلان پہلے ہی کمشنر کو ئٹہ ڈویژن کے دفتر میں جمع کر دیا گیا ہے پلا ن کی منظوری کے بعد اس سے این او سی کے لئے ریلوے ہیڈ کوارٹر بھیجا جا ئے گا ،اس موقع پر عدالت نے ریلوے حکام کے طرز عمل پر سولا ت اٹھا ئے اور کہا کہ عدالت کے پاس سخت قا نونی کا رروائی کے سوا کو ئی دوسرا چا رہ نہیں ۔
عدالت نے ریلوے نما ئندہ کو ہدایت کی کہ وہ سریا ب پھاٹک سے دوکا نی با با تک ڈرینیج لا ئن کے لئے ریلوے ہیڈ کوارٹراین او سی کے حصول کے لئے ذاتی طور جا ئیں،عدالت نے چیف انجینئر(سول)محکمہ ریلوے کوحکم دیا کہ وہ تین دن کے اندر معاملہ DEN-I ریلوے کو ئٹہ کے ساتھ سلجھا ئیں عدالتی احکاما ت کی عدم تعمیل کی صورت میںاگلی سما عت کے موقع پر وہ بذات خود عدالت کے روبرو پیش ہوں۔
کمشنر کو ئٹہ ڈویژن کے جمع کرا ئے گئے رپورٹ سے لگ رہا ہے کہ ریلوے آفیسران بھی انسکمب روڈ کی کیلون روڈ ،جناح روڈ اور کواری روڈ کی جا نب توسیع کے کا م میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں عدالت نے ڈی ایس ریلوے کو دو ہفتے کے دوران متعلقہ حکام سے این او سی لینے کی مہلت مہیا کی اور کہا کہ عدالتی ہدا یا ت کی عدم تعمیل کی صورت میں ڈائریکٹر پرا پرٹی اینڈ لینڈ پا کستان ریلوے ذاتی طور پر عدالت کے رو برو پیش ہو ں۔
کمشنر کو ئٹہ ڈویژن نے نئے لوکل بس اسٹینڈ سے متعلق عدالت کومعلوما ت فرا ہم کی اور بتا یا کہ سر یا ب روٹ سے آنے والی لو کل بسوں کو ریلوے اسٹیشن کے پاس پارکنگ کی سہو لت دینے پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ شما لی علا قوں سے آ نے والی بسوں کو نئے سبزل روڈ پر اسٹاپ دینا زیر غور ہے ، ایس ایس پی ٹریفک نے عدالت کو بتا یا کہ اس مسئلے پر ٹریفک پو لیس اور ضلعی انتظا میہ غور کر رہی ہے۔
اس سلسلے میں انہوں نے عدالت سے مہلت طلب کی عدالت نے کمشنر کو ئٹہ ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ اس با بت درکا ر ضروری اجلاس بلا ئے اور مسئلے کو حل کرے ،اے اے جی نے بنچ کے ججز کی توجہ مبذول کرا تے ہو ئے کہا کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے قیام کے لئے سیکرٹری پراونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (پی ٹی اے )کو سمری بھیجی جا چکی ہے تا ہم اس کی ابھی تک منظوری نہیں دی جا سکی ہے ۔
عدالت کے استفسار پر ایس ایس پی ٹریفک کو ئٹہ نے عدالت کو بتا یا کہ ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے قیام کے بغیر شہر اور نواحی علا قوں میں ٹریفک کا مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا ،ٹریفک انجینئرنگ بیورو سے متعلق سمری منظور ہو نے کے بعد ٹریفک پولیس منصو بے پر عمل در آمد کے سلسلے میں کو ئی کسر با قی نہیں چھوڑے گی عدالت نے اس با بت سیکرٹری پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ اس سلسلے میں فوری طور پر اقدام اٹھا ئے اور پر پوزل متعلقہ حکام کو جمع کرا یا جا ئے ۔
سما عت کے دوران تحفظ ما حولیا ت کے ڈائریکٹر جنرل محمد جہانگیر کا کڑ نے رپورٹ جمع کرا ئی اور بتا یا کہ نجی اور سر کا ری سطح پر کسی بھی فرد اور کمپنی نے ان سے این او سی نہیں لی حالانکہ قا نونی طور پر بلو چستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 2012ء کے تحت ہر شخص اورکمپنی ای پی اے سے تعمیرات اور تر قیاتی کا م کا این او سی لینے کا پا بند ہے ہما ری تجویز ہے کہ میٹرو پو لیٹن کا ر پوریشن کو ہدایت کی جا ئے کہ وہ نئی عما رتوں کی تعمیرات کی اجازت کے لئے درکا ر شرائط میں ای پی اے کا اجا زت نا مہ بھی شامل کرے۔
اس سے ما حو لیا تی ایجنسی کو نئی تعمیرات و دیگر با بت معلومات بھی میسر آئیں گی،انہوں نے بتا یا کہ انوائرمنٹ امپیکٹ اسسمنٹ ایجنسی کا مینڈیٹ نہیں بلکہ یہ تیسری پا رٹی کنڈکٹ کر تا ہے میٹرو پولیٹن کا ر پوریشن، محکمہ صحت اور دوسری لا ئن ایجنسیز جونئی عما رتوں کی تعمیرات کے ساتھ منسلک ہیں کے درمیان کوآرڈیشن ضروری ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہر میں 15بڑی عما رتوںکے ما لکان کو دو دو لا کھ روپے جر ما نہ کے نو ٹسزبھیجوا ئے گئے ہیں۔
تا ہم ان کی جا نب سے جر ما نے جمع نہ کر نے پر ان کے کیسز انوائرمنٹل ٹریبونل کے پاس بھیجے گئے ہیں رپورٹ یہ بھی ظا ہر کر تا ہے کہ 12نجی زیر تعمیر منصوبوں کو بھی نو ٹسز بھیجے گئے اور ان کے کیسز بھی اسی طرح انوائر منٹل ٹریبونل میں ہیں سما عت کے دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کو ئٹہ میں 19ہا ئوسنگ اسکیموںکی نشاندہی ہو چکی ہیں جنہیں انوائرمنٹل امپیکٹ اسسمنٹ کے بغیر شروع کیا گیا ہے جس پر اسکیموں نو ٹسز جا ری کر دئیے گئے۔
اور متعلقین کے پیش نہ ہو نے کی صورت میں ان کے کیسز بھی انوائرمنٹل ٹریبونل کو بھیجوائے جا ئیں گے سما عت کے دوران عدالت کے ہسپتا لوں کے فضلے سے متعلق استفسار پر ڈی جی ای پی اے نے بتا یا کہ اس سلسلے میں رولز کو منظوری کے بعد لا گو کئے جا ئیں گے لیکن ایسا محکمہ صحت اور خاص کر پرائیویٹ ہاسپٹل ریگولیٹری اتھارٹی کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہو گا اس پر عدالت نے سیکرٹری صحت کو ہدایت کی کہ و ہ مجوزہ پینڈنگ قوانین کی منظوری اور اس کے بعد ای پی اے ،سر کا ری و نجی ہسپتا لوں کی انتظا میہ کے ساتھ مل کر ہسپتا لوں کے فضلے کو تلف کر نے سے متعلق قابل عمل طریقہ کا ر مر تب کریں۔
سیلولر کمپنیوں اور ان کے بی ٹی ایس ٹاورز سے متعلق عدالت کو بتا یا گیا کہ پرا نے سیلولر کمپنیوں اور ان کے بی ٹی ایس ٹا ورز کا کو ئی ریکارڈ ای پی اے کے پا س مو جو د نہیں عدالت کو وضاحت پیش کی گئی کہ بی ٹی ایس ٹا ورز کے ریگولیشن کے لئے ا ی پی اے ڈرافٹ تیار کر چکی ہے جسے ضروری کا رروائی کے بعد لا گو کیا جا ئے گا۔عدالت نے بی ٹی ایس ٹا ورز سے متعلق پا کستان ٹیلی کیمونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) کے چیئر مین اور ریجنل آفس کو ئٹہ بلو چستان کو نو ٹسز جا ری کر نے کے احکاما ت دیتے ہو ئے ان سے سیلو لر کمپنیوں ان کے بی ٹی ایس ٹا ورزکی جی پی ایس لو کیشن سمیت تفصیلات طلب کیں۔
اور ہدایت کی کہ اس با بت متعلقہ فوکل پرسن کی ای پی اے کے ساتھ کوآرڈینیشن کے لئے نا مزدگی عمل میں لا ئی جا ئے اور اگلی سما عت پر پی ٹی اے اور ای پی اے اس سلسلے میں علیحدہ علیحدہ رپور ٹس فا ئل کریں ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے ) نے بی ٹی ایس ٹاورز کے انسانی صحت اور ما حول پر اثرات سے متعلق ایک ریسرچ اسٹڈی کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈی جی ای پی اے نے بتا یا کہ ریسرچ اسٹڈی کے لئے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فنڈ پی اینڈ ڈی بلو چستان سے ہمیں درکا رہیں اس پر عدالت نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات کو ہدایت کی کہ جتنی جلدی ہو سکے سروے اور ریسرچ کو ممکن بنا یا جا ئے عدالت نے حکم کی کا پی ایڈووکیٹ جنرل کے توسط سے چیف سیکرٹری بلو چستان ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ترقیات)،سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی ، سیکرٹری صحت ، سیکرٹری خزانہ ،سیکرٹری لو کل گورنمنٹ ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ، ڈائریکٹرتحفظ ما حولیات (ای پی اے ) ،چیف ایگزیکٹو آفیسر کنٹونمنٹ بورڈ کو ئٹہ ،ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ پا کستان ریلوے کو ئٹہ،سی ای او پا کستان ریلویز۔
چیئر مین پا کستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھا رٹی (پی ٹی اے)پراونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (پی ٹی اے)، کمشنر کو ئٹہ ڈویژن ، ڈپٹی کمشنر کو ئٹہ ،ایس ایس پی ٹریفک کو ئٹہ اور ایڈمنسٹریٹر میونسپل کا رپوریشن کو ئٹہ کو بھیجنے کی ہدایت کی ۔بنچ نے پا کستان ریلویز کو ئٹہ کے حکام کو 10دسمبر تک رپورٹ جمع کر نے کی ہدایت کی دیگر رپورٹس کو بھی سما عت سے قبل یا اگلی سماعت کے موقع پر جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ۔آئینی درخواست کی اگلی سما عت 24دسمبر کو ہو گی ۔