کوئٹہ: ضلع مستونگ سے بلوچستان یونیورسٹی بازیاب پروفیسر شبیرشاہوانی، پروفیسر نظام شاہوانی نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں کہا ہے کہ نامعلوم افراد انہیں 2 گھنٹے تک گاڑی میں لے کرچلتے رہے، اغواء کاروں نے ہم سے بدتمیزی کی جبکہ زد و کوب بھی کیا، اغواء کاروں نے پروفیسر لیاقت سنی کی بازیابی کیلئے 6 کروڑ روپے رقم کا مطالبہ کیا ہے
بیان میں کہا گیا ہے کہ اغواء کار لیاقت سنی اور ہماری تنخواہوں سے متعلق بھی پوچھتے رہے، اغواء کاروں نے ہمیں کانک کے علاقے اغبرگ کے قریب چوڑدیا اور پروفیسر لیاقت علی سنی کو ساتھ لے گئے، اغواء کار ہمارے موبائل شناختی کارڈز نقدی وغیرہ بھی لے کر گئے، اغواء کار تین کار گاڑیوں میں سوار تھے، سٹی پولیس تھانہ میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا
واضح رہے کہ بلوچستان یونیورسٹی کے تین پروفیسرز شام کے وقت مستونگ سے لاپتہ ہوگئے تھے، لاپتہ پروفیسرز میں ڈاکٹر لیاقت سنی، شبیرشاہوانی اور پروفیسر نظام شاہوانی شامل تھے، تینوں پروفیسرز بی اے کے جاری امتحات کےدورہ کیلئےکوئٹہ سے خضدار جارہے تھے، لاپتہ پروفیسرز میں سے دو کانک کے علاقے سے منظر عام پر آگئے، ایک پروفیسرڈاکٹر لیاقت سنی تاحال لاپتہ ہے