منگچر: بی ایس او بلوچستان میں ہمیشہ سیاسی نرسری کاکردارااداکرتی چلی آرہی ہے 1967 کومیرعبدالعزیزکرد اورمیریوسف عزیز مگسی جیسے لیڈروں نے اس پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی جوآج دورجدید میں بھی نظریاتی اورفکری سیاسی لیڈر پیداکررہی ہے جو مظلوم ومحکو م طبقات کے حقوق کے لیے سیاسی جدوجہد کررہی ہے ان خیالات کااظہار نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما واجہ عبدالستار بلوچ، بی ایس او پجارکے مرکزی رہنما واجہ ظفربلوچ۔
بی ایس او پجار کے مرکزی سینیئر جوائنٹ سیکریٹری ابراربلوچ، مرکزی رہنما واجہ ادریس بلوچ،جمیعت علمائے اسلام منگچر ورکنگ کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر یعقوب بلوچ، بی ایس او پجار منگچرزون کے صدر زاہدبلوچ ودیگر رہنماں نے منگچرزون کی جانب سے بی ایس او کے 53ویں یوم تاسیس کے حوالے سے محفل مشاعرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس سے قبل علاقے کے شعرا اورادبا نے اپنے اپنے اشعار پیش کیے پروگرام کی صدارت بی ایس او پجار منگچر زون کے صدر زاہدبلوچ نے کیا مہمان خاص نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما واجہ ستار بلوچ تھیاعزازی مہمان قیقان ادبی دیوان قلات کے سعید راقم تھے اسٹیج سیکریٹری کے فرائض ابراربلوچ نے سرانجام دیے پروگرام کاآغا ز تلاوت کلام پاک سے ہوئی جس کی سعادت حکیم یادگار نے حاصل کی۔
اس موقع پر سخاوت ادبی کارواں منگچر شاخ، کوہ ماران ادبی کارواں،براہوئی اکیڈمی منگچر شاخ کے شعرا اورادبا نے محفل مشاعرے میں شرکت کی جن میں ثاقب مہیم، حنیف عاقل شاہوانی، حسرت بلوچ، اسدجانان، طارق شاویز، کلیم ساگربلوچ، وحید بلسم، حکیم یادگار، فیض کاظم، سنگت منان بلوچ، ابرارعادل، شبیرشاکر، فیض خالد، ودیگر شعرا وادبا نے اپنے خیالات واشعار پیش کیے یوم تاسیس کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ طلبا کو اگر شروع ہی سے سیاسی نظام اورماحول فراہم کی جائے تو وہ مستقبل میں کامیاب اورنظریاتی سیاست کو پروان چڑھائیں گے۔
طلبا کی سیاست کا مقصد معاشرے کو سیاسی میدان میں مناسب توانائی فراہم کر کے انھیں معاشرے کا اثاثہ بنانا ہے، ایک حقیقی نظریہ اور سیاسی خیالات رکھنے والا طالب علم معاشرے کو بہتر سمجھتا ہے اور معاشرے کی خدمت بہتر انداز میں کر سکیں گے52 سال قبل سیاسی فکر سے لیس ہمارے قومی ہیروز نے 26نومبر 1967میں بی ایس او کی بنیاد رکھی بی ایس او اپنے قیام سے لے کر آج تک بلوچ قوم پرستی کی سیاست میں ایک تاریخ ساز کرداراداکرتی چلی آرہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ یونین اور تنظیموں پر پابندی لگا کر سیاسی عمل کو کمزور اور سوال کرنے پر قدغن لگانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے تعلیمی اداروں میں سیاسی ماحول نہ ہونے کی وجہ سے معاشرہ تیزی کے ساتھ غیرسیاسی ہوتا جا رہا ہے اس کا نقصان براہِ راست بنیادی سیاست کے سیاسی کارکنوں کا ہورہا ہے اور غیرسیاسی عدم برداشت جیسے اقدامات زیادہ دیکھنے کو مل رہی ہے کیوں کہ معاشرے کے نوجوانوں میں سیاسی شعور بیدار نہیں ہوتا ہے۔
تو یہ سیاسی میدان میں غیر سیاسی اورغیر روایتی لوگ سیاسی اداروں پر مسلط ہورہے ہیں۔ آج بی ایس او کی بدولت بلوچ سیاست کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ آج بھی ایس او جیسی طلبا تنظیم کے سیاسی اثرات سیاسی میدان میں محسوس کی جاتی ہے تو بلوچ سیاست اس مقام پر ہے تو اسی طلبا تنظیم کی وجہ سے ہے جس کی بنیاد 53سال قبل ہمارے سیاسی اسلاف نے رکھی۔