|

وقتِ اشاعت :   November 28 – 2020

کوئٹہ : پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امراض گردہ کے علاج معالجے کے لئے دستیاب طبی سہولیات کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت ہے کوئٹہ میں قائم ” بینیک “دیہی علاقوں میں ڈیلاسسز یونٹس کی فعالیت کے لئے تیکنیکی معاونت کی فراہمی کو یقینی بنائے یہ بات انہوں نے بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف نیفرالوجی اینڈ یورولوجی کوئٹہ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پروفیسر کریم زرکون سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔

جنہوں نے گزشتہ روز ان سے ملاقات کی اور ادارے کی مجموعی کارکردگی اور درپیش مسائل سے متعلق آگاہ کیا پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ سرکاری سطح پر امراض گردہ کی تشخیص اور علاج و معالجہ کے لئے “بینیک ” کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے تاہم اس انسٹی ٹیوٹ میں ابھی اصلاح و بہتری کی کافی گنجائش موجود ہے  اور ہماری کوشش ہے کہ اس ادارے کو سرکاری سرپرستی میں چلنے والا ایک مثالی انسٹی ٹیوٹ بنایا جائے۔

اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری صحت  ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف نیفرالوجی اینڈ یورولوجی کے سربراہ کو ہدایت کی سبی میں ڈائیلاسسز یونٹ کے قیام اور ڈی ایچ کیو ڈیرہ مراد جمالی میں ڈیلاسسز یونٹ کی فعالیت کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

بینیک کے سی ای او نے پارلیمانی سیکرٹری صحت کو بتایا کہ ڈی ایچ کیو ڈیرہ مراد جمالی میں گزشتہ دو سال سے بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف نیفرالوجی کا ٹیکنیشن طبی تینیکی امور سرانجام دیتا رہا ہے ڈی ایچ کیو ڈیرہ مراد جمالی کے ایم ایس کو متعدد بار مقامی ٹیکنیشن کی تربیت کے لئے نامزدگی طلب کی گئی۔