|

وقتِ اشاعت :   November 29 – 2020

کوئٹہ: بی ایس او پجار کے مدکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسرز لیاقت سنی ، نظام شاہوانی ،شبیر شاہوانی جو آج بی اے کی امتحانات کے سلسلے میں خضدار جارہے انہیں مستونگ کے پر نامعلوم افراد نے اغواء کیا بعد ازاں لیاقت سنی صاحب کے علاوہ دونوں پروفیسرز کو رہا کردگیا۔

لیاقت سنی صاحب تاحال لاپتہ ہے۔انہوں نے کہا پروفیسرز کا اغواء تعلیم دشمن اقدامات ہیں جن کی ہم بھر پور الفاظ میں مزمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں پروفیسر لیاقت سنی صاحب کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔انہوں نے کہا ماضی میں بھی پروفیسر اساتذہ کو ٹارگٹ گلنگ کا نشانہ بنایا گیا اور کئی پروفیسر طلباء کو اغواء کیا گیا یہ اسی کڑی کی تسلسل ہے یونیورسٹی کے اساتذہ کرام کی اغواء نما گرفتاری تعلیم اور بلوچستان دشمن اقدامات ہیں۔

انہوں نے کہا ایک طرف طلباء کو کرونا کے نام پر تعلیمی اداروں سے راتوں رات نکالا گیا طالبات کو ہاسٹلز سے زبردستی بے دخل کیا گیا دوسری طرف بلوچ قوم کی اثاثے اساتذہ کرام کو دن دھاڑے اغواء کیا جارہا ہے۔

اس جبرا استحصالی عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے۔ترجمان نے مذید کہا اگر پروفیسر لیاقت سنی صاحب کو رہا نہیں کیا گیا ہم طلباء تنظیمیں مجبور ہوکر نام نہاد حکومت جبرا پالیسوں کیخلاف تحریک کا اعلان کریں گے۔