|

وقتِ اشاعت :   November 29 – 2020

خارن: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجارکے مرکزی چیئر مین زبیربلوچ،وحدت بلوچستان کے صوبائی صدر بابل ملک بلوچ،سینٹرل کمیٹی کے ممبران علی نواز بلوچ،آصف نور بلوچ،عید محمد بلوچ،سینئر رائنما غنی حسرت بلوچ نے خاران کے تنظیمی دورے کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کو علم ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں طالب علم۔

نوجوان سفید ریش،ڈاکٹر،انجینئر،ٹیچر اور صحافیوں کو ماورائے آئین وقانون۔لاپتہ کردیا جاتا ہیں پھر ان کا سالوں سال پتہ نہیں ہوتا۔یا پھر انکے مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینک دی جاتی ہے گزشتہ روز بھی ضلع مستونگ کے علاقے غلام پڑیز سے تین پروفیسرز کو ماورائے آئین و قانون لاپتہ کردیا گیا ہے بعد میں دو کو بازیاب کرایا گیا لیکن ایک پروفیسر ڈاکٹر لیاقت سنی تاحال لاپتہ ہے۔

جو کہ تشویش ناک عمل ہیں اور یہ واقعہ بھی انھی واقعات کی ایک کھڑی ہے جو سالوں سے چلتی آرہی ہیں ڈاکٹر لیاقت سنی براہوی ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ اور براہوی زبان کے ایک نامور ادیب شاعر بھی ہے معاشرے کے ایسے افراد جن میں امن وشانتی کی وجہ ہو ان کے ساتھ یہ رویہ قابل مذمت ہے انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے تعلیمی حالات روز بروز بگڑتی جارہی ہیں بلوچستان کے طول و عرض میں جہاں بھی کسی تعلیمی ادارے کا وجود ہے۔

وہاں اساتذہ بنیادی سہولیات کا فقدان ہے گزشتہ کئی عرصے سے بلوچستان کے کئی ضلعوں میں تعلیمی اداروں میں سیکورٹی فورسز کی مکین گاہ بنادیا گیا ہیں جو طلبا میں خوف کی وجہ بن رہے ہیں بلوچستان کے ضلع خاران میں جو نئے ڈویژن رخشان کا ہیڈ کوارٹر قرار دیا گیا ہیں کہ اسکولز کے زمینوں پر مختلف گروہ و بااثر افراد اپنا قبضہ خلاف ہے ہیں۔جعلی ڈومیسائل لوکل سرٹیفیکٹ بلوچستان کے ہر فرد کا مسئلہ ہے۔

اور آپ سب کے علم میں ہوگا کہ کچھ ماہ قبل کئی اضلاع میں سینکڑوں جعلی ڈومیسائل لوکل سرٹیفیکٹ پکڑے گئے ہیں جو حقیقی اور لوکل افراد کی حق تلفی یے ہم سمجھتے ہیں کہ لوکل ایشو کرنے کے طریقہ کار کو مزید شفاف بنایا جائے اور تمام جاری کردہ ڈومیسائل کی جانچ کی جائے اور غیر مقامی افراد جو بلوچستان و دیگر صوبوں میں نوکری پہ ہے انکی جانچ کی جائے تاکہ مقامی افراد کی حق تلفی کو روکا جائے۔

اپ بخوبی واقف ہے کہ خاران کے کئی طلبا کوئٹہ کے اعلی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہے بلوچستان یونیورسٹی خاران کیمپس کا انعقاد کیا گیا تو یہاں کے طلبا و طالبات میں خوشی کی لہر دوڑ آئی لیکن خاران کیمپس میں صرف دو ڈپپارئمنٹ کے شروعات کرکے مایوسی کی انتہا کردی خاران کیمپس کی بند کرنے اور متعصبانہ روپے کے سامنے ایک پلائی دیوار بن کے کھڑے ہونگے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری اسٹاف و دیگر عملہ تعنیات کرکے بلوچی براہیوٹی و دیگر ڈپپارئمنٹ بھی شروع کیا جائے۔

تعلیمی اداروں کو کرونا کے دوران بند کردیا گیا اور آن لائن کلاسز کا آغاز کیا جس کے خلاف ہم نے بھرپور آواز بلند کیا لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے تعلیمی اداروں کے بندش میں پرائیوٹ اسکول کالج یونیورسٹی نے جو فیس لئے ان کو فوری واپس کیا جائے اب پھر سے تعلیمی اداروں کو بند کیا جارہا ہیں اور ان لائن کلاسز کا آغاز کیا جارہا ہے اس حوالے سے طلبا و طالبات کے تحفظات کو پھر سے نظر انداز کیا جارہا ہیں۔