|

وقتِ اشاعت :   November 29 – 2020

کوئٹہ: سابق رکن قومی اسمبلی سردار کمال خان بنگلزئی نے بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسرز کے اغواء کی مذمت اور پروفیسر لیاقت سنی بنگلزئی کی عدم بازیابی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت ضلعی انتظامیہ کی غفلت کا نوٹس لیتے ہوئے مغوی پروفیسر کو فوری بازیاب کرائے۔ اپنے مذمتی بیان میں سردار کمال خان بنگلزئی نے ہفتے کے روز کوئٹہ سے خضدار جانے والے بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسرز پروفیسر لیاقت سنی بنگلزئی۔

پر وفیسر شبیرشاہوانی اورپروفیسر نظام شاہوانی کے مستونگ سے اغواء کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پر وفیسر شبیرشاہوانی اورپروفیسر نظام شاہوانی کی بازیابی کے باوجود پروفیسر لیاقت سنی بنگلزئی کی عدم بازیابی پر تشویش ہے بلوچستان میں ہر طرف جنگل کا قانون ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ضلعی انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے انہوں نے کہا کہ مستونگ میں بلوچستان کے پڑھے لکھے طبقہ کیساتھ افسوسناک اورقابل نفرت واقعہ کا پیش آنا ہمارے معاشرے کیلئے سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہذب معاشرے میں اساتذہ کواہم مقام حاصل ہے۔

بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسرز کیساتھ پیش آنے والا واقعہ معاشرے کی تباہی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پروفیسر لیاقت سنی بنگلزئی کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے انہیں اغواء کرنا افسوسناک ہے، سردار کمال خان بنگلزئی نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت پروفیسر کے اغواء کے واقعہ میں انتظامی غفلت کا نوٹس لیتے ہوئے مغوی پروفیسر کی فوری بازیاب کرائے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ میں ضلعی انتظامیہ کی کسی کوتاہی کو برداشت نہیں کریں گے پروفیسر لیاقت سنی بنگلزئی کی عدم بازیابی کیخلاف شدید احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔