|

وقتِ اشاعت :   November 30 – 2020

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع کوئٹہ کے صدر رکن صوبائی اسمبلی میر احمد نواز بلوچ اور پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین رکن اسمبلی میر اختر حسین لانگو نے جامعہ بلوچستان کے پروفیسر لیاقت سنی کے اغوا کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔

بی این پی ضلع کوئٹہ کے سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں بی این پی کے اراکین اسمبلی نے کہا کہ بلوچستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کا دعوی کرنے والے حکمران صوبائی دارلحکومت سے محض چند گھنٹوں کی مسافت پر واقع علاقے میں امن کی بحالی میں ناکام ہیں جامعہ بلوچستان کے پروفیسر لیاقت علی سنی کا دن دیہاڑے اغوا قیام امن کے مقاصد کے لئے اربوں روپے خرچ کرنے والی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

اور صوبائی حکومت کے ان دعووں کی نفی ہے جس میں بحالی امن کا راگ الاپا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ پروفیسر لیاقت سنی کا اغوا ایک عام واقعہ نہیں بلکہ بلوچستان کے جوانوں اور درس و تدریس سے وابستہ افراد کو تعلیم سے دور کرنے کا ایک حربہ ہے پروفیسر کے اغوا سے بحالی کے دعووں کی قلعی کھل گئی ہے اور یہ واضع ہوا ہے کہ عوام حکومتی اقدامات نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد کے رحم و کرم پر ہیں پروفیسر لیاقت سنی کے اغوا سے صوبے بھر میں ایک بے چینی پائی جاتی ہے۔

تاہم عوامی رد عمل اور پریشانی کے قطع نظر وزیر اعلی بلوچستان جیپ ریلیوں میں شرکت اور حکومتی ہیلی کاپٹر میں عوامی وسائل پر باہر کے مہمانوں کی خاطر مدارت میں مصروف عمل نظر آتے ہیں میر احمد نواز بلوچ اور میر اختر حسین لانگو نے کہا کہ بی این پی پروفیسر لیاقت سنی کے اغوا کو تعلیم دشمنی پر مبنی جرائم کا ایک ایسا سنگین جرم سمجھتی ہے۔

جو بلوچستان کے جوانوں اور درس و تدریس سے وابستہ افراد کو خوف و ہراس میں مبتلا کر کے ان سے کتاب چھیننے کا سبب ہے بی این پی مغوی پروفیسر کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے درس و تدریس سے وابستہ افراد کو یقین دلاتی ہے کہ بلوچستان میں اساتذہ کے تحفظ کے لئے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔