کوئٹہ: نیشنل پارٹی اورپی ڈی ایم کے مرکزی سینئر نائب صدر سینیٹر میرکبیراحمدمحمدشہی نے کہاہے کہ ایک منصوبے کے تحت بلوچستان میں بدامنی کے واقعات بڑھ رہے ہیں بلوچستان یونیورسٹی براہوئی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر لیاقت سنی کا مستونگ سے دن کی روشنی میں اغواء ہونا حکومت اوراداروں کیلئے۔
سوالیہ نشان ہے جو دن رات قیام امن اور خوشحالی کے دعوے کرتے نہیں تھکتے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ مسلط حکمرانوں کی نااہلی اور ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں آج بلوچستان کا ہرشخص عدم تحفظ کا شکار ہے اغواء اورقومی شاہراہوں پر مسافروں کو لوٹنے کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہونا افسوسناک ہے حکومت نے پہلے ہی لاکھوں افرا دکو بے روزگار کردیاہے جبکہ مہنگائی سے ہرشخص پریشان ہے حتیٰ کہ مزدور طبقہ نان شبینہ کیلئے محتاج اور فاقہ کشی پرمجبور ہے۔
ان حالات میں عدم تحفظ کا احساس ناقابل برداشت عمل ہے انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کے امن وامان سے متعلق دعوے حقائق کے برعکس ہیں بدقسمتی سے اس وقت صوبے میں نسل نو کے معمار بھی اغواء ہورہے ہیں نیشنل پارٹی اکیڈمک اسٹاف ایسو سی ایشن جامعہ بلوچستان کے تمام جائز مطالبات کی نہ صرف حمایت کرتی ہے بلکہ اس حوالے سے اساتذہ تنظیموں کے ساتھ ہرممکن تعاون اور ہرسطح پر احتجاج کرے گی۔