کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں گزشتہ روزمستونگ سے 3پروفیسر کے اغواء اور بعد میں دو کی بازیابی اور پروفیسر ڈاکٹرلیاقت سنی کی تاحال عدم بازیابی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گزشتہ روزکوئٹہ یونیورسٹی کے شعبہ براہوئی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر لیاقت سنی اور ان کے ہمراہ پروفیسر نظام بلوچ اور ڈاکٹر شبیر احمد شاہوانی کو مستونگ کے قریب مین ہاوئی وے پر نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کیا۔
اور پھر پروفیسر نظام بلوچ اور ڈاکٹر شبیر احمد کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر چھوڑ دیا گیا جبکہ پروفیسر ڈاکٹر لیاقت سنی کو اغواء کار اپنے ساتھ لے گئے اور تاحال ان کی عدم بازیابی سلیکٹڈ حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے؟بیان میں کہا گیا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت کی روز اول سے عوام کے سرومال کی تحفظ میں ناکامی کی پشتونخوامیپ نے بارہا نشاندہی کی ہے۔
اور پارٹی اپنے عوام کو ان سلیکٹڈ، نااہل، عوام دشمن حکومت کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔ صوبے کے تمام اضلاع وعلاقوں میں دہشتگردی کے واقعات کا ہونا اور ان میں سے کسی بھی واقعہ کے ملزم کی اب تک کوئی گرفتاری اور منظر عام پر نہ لانا،ہر شاہراہ پر درجنوں سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں اور اس کے باوجود دن دہاڑے مسلح عناصر کی جانب سے پروفیسرز، ڈاکٹرز، تاجروں اور عام شہریوں کو بھتہ کے عیوض اغواء کرنے کے واقعات کا ہونا۔
بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ، حال ہی میں پشتونخوامیپ اور مرکزی انجمن تاجران کے رہنماء حاجی اللہ داد ترین کو ٹارگٹ کلنگ کرکے شہید کیا، حکومتی فورس اور ایف سی کی جانب سے صوبے کے مختلف اضلاع بالخصوص کوئٹہ مارگٹ،ہرنائی کول مائنز اونرز سے غیر قانونی بھتہ وصولی ودیگر اضلاع میں کوئلہ اور معدنیات پر غیر آئینی غیر قانونی ٹیکسز وصول کرنا، شہریوں کو اپنے آئینی قانونی جمہوری حق سے زور زبردستی بندوق کی۔
نوک پراپنی جدوجہد سے دستبردار کرانے کے تمام ہتکھنڈے استعمال کیئے جارہے ہیں۔بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبے کے تمام شاہراہوں واضلاع میں عوام کے سرومال کی تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے ان مسلح عناصر اور ان کے لوٹ مار کے چینوں کا خاتمہ کیا جائے اور اغواء ہونیوالے پروفیسر ڈاکٹر لیاقت سنی کو فی الفور بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔