کوئٹہ: بلوچستان کی مختلف طلباء تنظیموں کے رہنماؤں نے پروفیسر ڈاکٹر لیاقت سنی کی بازیابی خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پروفیسر کے اغواء میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے بصورت دیگر وہ دوبارہ احتجاج شروع کرنے پر مجبورہوں گے۔
بلوچستان اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین نذیر بلوچ،پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن (آزاد) کے سیدزبیر شاہ،بی ایس او (پجار) کے ابرار بلوچ، ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مجتبیٰ زیدی و دیگر نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر لیاقت سنی، شبیر شاہوانی اور نظام شاہوانی امتحانات کے انسپکشن کے لئے جارہے تھے کہ انہیں راستے میں اغواء کرلیا گیا، 2گھنٹے میں تحویل میں رکھنے اور تشدد کے بعد 2پروفیسرز کو چھوڑدیا گیا۔
البتہ پروفیسر ڈاکٹر لیاقت سنی لاپتہ کردیئے گئے جس سے طلباء تنظیموں، اساتذہ تنظیموں، سیاسی جماعتوں، دانشوروں اور شعراء میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جنہوں نے احتجاج کرتے ہوئے لاپتہ پروفیسرز کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔
پیر کی صبح ڈاکٹر لیاقت سنی کو اغواء کاروں نے ایک ویران مقام پر چھوڑ دیا جہاں سے ڈھائی گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ اپنے گھر پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پہلے ہی طلباء تنظیموں پر پابندی عائد ہے اور انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ اور طلباء کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسرز کے اغواء میں لزمان کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔