خضدار: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن خضدار کے صدرڈاکٹر جلیل احمد موسیانی، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر بشیراحمد موسیانی، ڈاکٹر سعیداحمد موسیانی، ڈاکٹر عبدالباری، و دیگر نے خضدار پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ خضدار میں ڈاکٹرز نے نامساعد حالات کے باوجود جس طرح علاج و معالجے کی خدمات سرانجام دی ہیں اس کی نظیر ماضی کے ادوار میں نہیں ملتی ہے۔
اس کے باوجود ہماری حوصلہ افزائی کے بجائے ہمیشہ ہماری حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، اور انتظامیہ کا رویہ ڈاکٹرز کے ساتھ معاندانہ رہا ہے، ڈاکٹرز کی مشکلات کا احساس کیئے بغیر ان کے ساتھ غیرشائستہ انداز اور رویہ اپنانا افسوسناک ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ٹیچنگ ہسپتال خضدار میں اس وقت ڈاکٹرز کی انتہائی کمی ہے، جتنے ڈاکٹرز ہیں وہ کم تعداد میں ہیں۔
باوجود اس کے تمام شعبوں میں بہتر انداز میں خدمت سرانجام دے رہے ہیں ہم صرف خضدار نہیں بلکہ دو ڈویژنز کے مریضوں کا علاج کررہے ہیں، مستونگ سے لیکر بیلہ اور خاران واشک تک کے مریض خضدار ٹیچنگ ہسپتال لائے جاتے ہیں، جن کے علاج کی ذمہ داری ہمارے ذمے ہوتا ہے۔ ڈاکٹرز نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ گزشتہ کئی ماہ سے خضدار میں ادویات کی قلت ہے،اور مشینری کی سہولت میسر نہیں ہے،ڈرپیں کینولا، اور سرنج تک غریب مریضوں کو میسر نہیں، غریب مریضوں کو حکومت کی جانب سے ادویات کی ریلیف ملنے کی بجائے انہیں بازار سے ادویات خرید نے پڑرہے ہیں۔
ہسپتال میں بجلی کی قلت ہے اور لوڈ شیڈنگ کافی زیادہ ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کے علاج اور ان کی تیمار داری میں بھی کافی مشکلات کا سامنا ہے، وارڈز میں بجلی کی سہولت نہ ہونے کے برابرہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرز اپنی مدد آپ کے تحت علاج کی سہولت فراہم کررہے ہیں، ہسپتال میں سہولیات کا فقدان ہے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال خضدار المعروف ٹیچنگ ہسپتال خضدار جو کہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر واقعہ ہے۔
یہاں روزانہ ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں اور متاثرین و دیگر ایمرجنسی کے مریضوں کی بڑی تعداد لائے جاتے ہیں، جن کے علاج و معالجے کے لئے ہمارے ڈاکٹرز و پیرامیڈیکس اسٹاف ہمہ وقت مصروف و موجود رہتے ہیں۔ہسپتال میں دواؤں، ضروری آلات و سہولیات اور ڈاکٹرز کی شدید قلت کے باوجود ہمارے ڈاکٹرز کی موجودہ ٹیم ہمیشہ انہماک کے ساتھ مریضوں کے علاج میں مصروف عمل رہتی ہے۔