|

وقتِ اشاعت :   December 2 – 2020

پنجگور: گزشتہ روز پولیس فائرنگ سے شہید ہونے والے تسپ پنجگور کی معروف شخصیت صابر سلیمان کے ورثا ء اور آل پارٹیز کے نمائندوں کا ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر احتجاج ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کرکے ان کی موجودگی میں ڈی پی او کوایف ائی آر کے اندراج کے لیے درخواست دیا ۔

ال پارٹیز میں شامل جماعتوں کے سرکردہ رہنماوں جمعیت کے ضلعی امیر حافظ محمد اعظم مولانا عبدالحی نیشنل پارٹی کے صوبائی رہنما علاء الدین ایڈوکیٹ حاجی نواز الطاف حسین بی این پی مینگل کے ضلعی صدرکفایت اللہ میر نظام ملازئی علی جان بلوچ بی این پی عوامی کے ضلعی صدر نثاراحمد مرکزی لیبر سکریٹری نوراحمد میر عبدالرحمن ملازئی حاجی محمد اکبر بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر میر عمر جان بلوچ معروف شخصیت حاجی بہارجان حاجی عبداللہ اور دیگر شامل تھے۔

آل پارٹیز کے نمائندوں اورپولیس فائرنگ سے شہید ہونے صابر سلیمان کے ورثا نے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق ساسولی اور ڈی پی او حنیف کو ایف آئی ار کے اندراج کے لیے24 گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا اور کہا کہ تسپ کے ایس ایچ او اور ان کے اسٹاف کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے ان کو فوری طور پر معطل کرکے گرفتار کیا جائے تاکہ شفاف انکوائری ہوسکے انہوں نے کہا کہ پولیس نے صابر سلیمان بلوچ کو گولی مارنے کے بعد کئی ۔

گھنٹے جائے وقوع پر روکے رکھا جس سے اس کی شہادت واقع ہوئی اور بعد میں متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کی بجائے صابر سلیمان کے معذور بھائی معصوم بیٹے جو کراچی میں تھا اس پر اور ان کے دیگر چار رشتہ داروں پر گاڑی اور لاش کو چوری کرکے لیجانے کا کیس درج کردیاجو انتہائی مضحکہ خیز اور گھٹیا حرکت ہے جبکہ گاڑی کو پولیس نے خود کرین لاکر سیدھا کیاتھا کس طرح ورثاء ایک ناکارہ گاڑی کو چوری کرکے لے جاسکتے ہیں ۔

آل پارٹیز کے نمائندوں نے کہا کہ پولیس کو کس قانون کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ نہتے شہریوں کو ڈائریکٹ گولی مار کر قتل کردے صابر سلیمان ایک معتبر شخصیت تھے وہ کسی بھی غیر قانونی کام میں ملوث نہیں تھاجسے اس طرح بے دردی سے قتل کیا جائے انہوں نے کہا کہ بقول پولیس صابرسلیمان اور ساتھیوں نے پہل کرکے ان پر فائرنگ کی مگر دلچسپی کی بات ہے کہ مقتول صابر اور ساتھیوں کی ایک گولی بھی پولیس گاڑی اور اہلکاروں کو نہیں لگی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس تاحال اپنے الزامات کو ثابت نہیں کرسکا ہے انہوں نے کہا کہ ہم قانون کا راستہ اپنارہے ہیں پولیس اگر اس طرح بے لگام رہی تو آئندہ بھی اس طرح کے دلخراش واقعات رونما ہوتے رہیں گے انہوں نے کہا کہ صابرسلیمان کو ڈائریکٹ ہٹ کیا گیا پولیس انصاف کے تقاضے پورا کرنے اور متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کی بجائے الٹا مرحوم کے معصوم بیٹے معذور بھائی اور دیگر گھروالوں پر ایف آئی آر کاٹ دی ہے۔

جو صریحا ظلم اور ناانصافی ہے پولیس کا متاثرہ خاندان کے خلاف ایف آئی آر شرمناک اور جلتی پر تیل چڑکنے کے برابر ہے متاثرہ خاندان کو جس طرح ازیت سے دوچار کرنے کی کوشش کی گئی وہ قابل مذمت اور قانون سے انحراف ہے ایف ائی ار فورا واپس لی جائے ڈپٹی کمشنرعبدالرزاق ساسولی اور ڈی پی او حنیف بلوچ نے کہا کہ ہم.ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے متاثرہ خاندان سے اظہار تعزیت اور ہمدردی کرتے ہیں۔

واقعہ واقعی درناک ہے سول انتظامیہ پولیس اور عوام لازم ملزوم ہیں ہمیں عوام کی ٹیکسوں سے تنخواہیں ملتی ہیں عوام کا مفاد ہر شے پر بالاتر ہے اور ورثا اور آل پارٹیز کے مطالبات جائز ہیں ڈی پی او نے کہا کہ واقعہ غلط فہمی کا نتیجہ ہوسکتا ۔

بعد ازاں آل پارٹیز کے نمائندوں اور ورثا نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس سرابراہوں کی اس یقین دہانی پر کہ متاثرہ خاندان کو ہر حال میں انصاف فراہم کیا جائے گا اپنا احتجاج کل تک کے لیے موخر کردیا اور پرامن طریقے سے منتشر ہوگئے آل پارٹیز کے نمائندوں نے مذید کہا کہ واقعہ کے زمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی صورت میں شدید احتجاج کریں گے۔