مستونگ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین زبیر بلوچ صوبائی وحدت کے صدر بابل ملک بلوچ مرکزی سنٹرل کمیٹی کے اراکین عمیر بلوچ علی نواز بلوچ مستونگ زون کے آرگنائزر شکیل بلوچ ڈپٹی آرگنائزر رئیس ناصر بلوچ اور دیگر رہنماوں نے سراوان پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کے تعلیم کا شرح تناسب انتہائی کم ہے۔
جوکہ المیہ ہے اس کا اصل اور بنیادی وجہ طالبات کے لیئے تعلیمی و تدریسی اداروں کا قیام کا نہ ہونا یا پھر ان میں سہولیات کا شدید فقدان ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت مستونگ ضلع کے بہت سارے طالبات کوئیٹہ میں مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں جن کو معاشی اور سماجی بہت سارے مسائل سے دوچار ہیں انہوں نے کہا کہ ضلع مستونگ میں فوری طور پر وومن یونیورسٹی ( سردار بہادر خان کا کیمپس قیام عمل میں لایا جائے۔
جس سے جو طالبات کوئیٹہ یا دیگر صوبوں کے اعلی تعلیمی اداروں میں مجبورا اپنی تعلیم آگے جاری نہیں رکھ سکتیں وہ اپنے ہی ضلع میں اعلی تعلیم کا خواب پورا کر سکیں گے انہوں نے کہا کہ مستونگ کوئیٹہ کا نزدیک ترین ضلع نہ صرف ٹیکنیکل اداروں سے محرومی کا شکار ہے بلکہ انجنیرنگ میڈیکل اور وومن یونیورسٹی سے بھی یکسر محروم ہے جوکہ اس صدی میں معاشرے کے لیئے المیہ اور حکمرانوں کے لیئے سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواب غوث بخش میموریل ہسپتال مستونگ اس وقت صوبہ کا ایک بہترین ہسپتال ہے اور ہسپتال کو کئی عرصے سے ٹیچنگ کا درجہ دیا گیا تھا مگر ابھی تک اس کے شعبہ ٹیچنگ پر کوئی عمل درآمد نہیں ہورہا ہیں سابقہ حکومتوں نے یہاں گرلز میڈیکل کالج کے قیام کے لیئے۔
کوشش کی مگر موجودہ دور حکومت میں یہ کوششیں بھی پھیکے پڑگئے انہوں نے کہا کہ بی ایس او پجار یہ مطالبہ کرتی ہے کہ مستونگ میں گرلز میڈیکل کالج ،نرسنگ کالج کی قیام اور غوث بخش میموریل ہسپتال کے ٹیچنگ کے درجہ کو عملی جامہ پہنائے انہوں نے کہا کہ بلوچستان گزشتہ کئی عرصے سے بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے اور اس طویل عرصہ میں بلوچ طلبا و طالبات بھی اس آگ و خون میں شدید متاثر ہوئے۔
ان کے تعلیمی مسائل بڑھ گئیں تعلیمی اداروں میں طلبا وطالبات کو کسی قسم کا کوئی تحفظ نہیں دیا جارہا ہے اور نہ ہی تعلیمی اداروں کے سربراہاں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
خاص طور پر بلوچستان یونیورسٹی اور دیگر ڈگری کالجز کے انہوں نے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت بلوچستان کے تعلیمی اداروں کو فورسز کے ذریعے یرغمال بنا دیا گیا ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے یونیورسٹیز اور کالجز تعلیمی ادارے کم اور چھاونی زیادہ لگتے ہیں انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں تعلیم کو یرغمال بنانے کو کسی صورت تسلیم نہیں کرینگے۔