|

وقتِ اشاعت :   December 3 – 2020

کوئٹہ: ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہاہے کہ حکومت درست سمت میں جارہی ہے پاکستان میں پہلی بار سیمنٹ کی تاریخی سیل ہوئی، برآمد ات بڑھی ہیں، کرنٹ اکائونٹ خسارہ ختم ہوا، حکومت نے جون سے اب تک ایک روپیہ بھی قرض نہیں لیا، وفاقی حکومت ایک ارب روپے کی لاگت سے کوئٹہ شہر میں 57کلومیٹر گیس پائپ لائن بچھائے گی جس سے کوئٹہ اور گردونواح میں گیس پریشر کا مسئلہ حل ہوجائیگا۔

منصوبے ستمبر 2021میں مکمل ہوگا، کورونا وائرس کی دوسری لہر انتہائی خطرناک ہے حکومت کی کوشش ہے کہ مکمل لاک ڈائون کی بجائے سمارٹ لاک دائون کیا جائے اپوزیشن کے جلسے کورونا وائرس کے پھیلائو کا باعث بن رہے ہیں،حکومت نے بلوچستان کے شمالی علاقوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیکج دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔یہ بات انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پر یس کلب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے کیو ڈی اے مبین خلجی، جنرل منیجر سوئی سدر ن گیس کمپنی بلوچستان مدنی صدیقی، پی ٹی آئی کے مرکزی رہنمائوں سردار خادم حسین وردگ، ظہور آغا، ڈاکٹر منیر بلوچ، باری بڑیچ ودیگر کے ہمراہ پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

قاسم خان سوری نے کہا کہ حکومت درست سمت میں جارہی ہے پاکستان میں پہلی بار سیمنٹ کی ریکارڈ سیل ہوئی ہے، برآمدات بڑھی ہیں، صنعتوں کو پیکج دینے سے پیدوار میں اضافہ ہوا ہے، کرنٹ اکائونٹ خسارہ ختم ہوا ہے، جون سے اب تک کوئی قرض نہیں لیاگیا، اگست سے اب تک روپے کی قدر میں 10روپے اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں گیس پریشر کا مسئلہ مستقل طور پر حل کرنے کے لئے۔

وفاقی حکومت نے ایک ارب روپے کی لاگت سے 57کلو میٹر گیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبہ شروع کیا ہے منصوبے کے تحت کوئٹہ اور مستونگ میں 16،12،8اور 6انچ قطر کی پائپ لائنز بچھائی جائیں گی گیس پائپ لائن کا کام ستمبر 2021تک مکمل ہوگا انہوں نے کہاکہ ملک میں گیس کے ذخائر کم ہورہے ہیں اس وقت 26فیصد لوگ قدرتی جبکہ 74فیصد لوگ ایل پی جی گیس استعمال کر رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے گھر میں بھی ایل پی جی گیس ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں نئے ذخائر دریافت نہ ہوئے تو پائپ لائنوں میں بھی ایل پی جی گیس ہی استعمال میں لائی جانی پڑسکتی ہے قاسم سوری نے کہا کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے لاک ڈائون ہورہے ہیں وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پہلے بھی پاکستان کی پالیسی کی دنیا بھر میں تعریف کی گئی اب بھی حکومت اسمارٹ لاک ڈائو ن کی جانب جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے دوران جذبہ خیر سگالی، مخیر حضرات، تاجروں کے تعاون سے حالات ابتر نہیں ہوئے جبکہ دوسرے ممالک میں لوگوں نے خوراک کے لئے اسٹور تک لوٹے ، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے جلسے کورونا وائرس کے پھیلائو کا باعث بن رہے ہیں حکومت نے سیاسی جلسے ،جلسوں محدود کردئیے ہیں بلاول بھٹوزرداری جو کہ ایک پارٹی کے سربراہ ہیں وہ بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔

اپوزیشن کو عوام کی زندگیوں کا سوچنا چاہیے ، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان وہ واحد وزیراعظم ہیں جنہوں نے 47سال بعد تربت کا دورہ کیا اور وہاں کے پسماندہ ترین 9اضلاع کے لئے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا حکومت نے بلوچستان کے شمالی علاقوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیکج دینے کا فیصلہ کیا ہے اس حوالے سے وفاقی وزیراسد عمر جلد ہی صوبے کے شمالی اضلاع کا دورہ کریں گے۔

انہوںنے کہا کہ حکومت نے کوئٹہ زیارت، کوئٹہ کراچی شاہراہوں کو دور رویہ جبکہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت کوئٹہ ژوب روڈ تعمیر کرنے کے منصوبوں کا آغاز کیا ہے ،گوادر میں نیا ایئر پورٹ تعمیر جبکہ تربت ائیر پورٹ کی توسیع کی جارہی ہے حکومت نے 75ارب روپے کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں مہنگائی بڑھی ہے۔

جسے اثرات پاکستان پر بھی پڑے، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بے وقت کی بارشیں ہوئیں جنکی وجہ سے گندم کی کھڑی فصل کو نقصان پہنچا حکومت نے گندم اور چینی کی کمی کو پوراکر نے کے لئے درآمد کا آغاز کردیا ہے جس کے بعد چینی کی قیمت میں چھ سے سات روپے تک کمی واقعہ ہوئی جبکہ ٹائیگر فورس کو ملک بھر میں مہنگائی روکنے کے لئے فعال کیا گیا ہے۔

اس موقع پرگفتگو کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری برائے کیو ڈی اے مبین خلجی نے کہا کہ اپوزیشن عوام کے نام پر سیاست چمکا رہی ہے گیس پائپ لائن کوئٹہ کی عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا جسکی تکمیل سے گیس پریشر کا مسئلہ حل ہوگا ،صوبائی حکومت کوئٹہ میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ڈیم کی تعمیر سمیت مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔