|

وقتِ اشاعت :   December 4 – 2020

کوئٹہ: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کی جانب سے یورپی یونین کی معاونت سے پہلی مرتبہ ’’بلوچستان سرمایہ کاری پالیسی‘‘تیار کرلی گئی ہے اور اس کے مسودے کو حتمی شکل دی جا چکی ہے، پالیسی مرتب کرنے میں تمام قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ فورمز اور اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کوبھی شامل کیا گیا ہے، پالیسی کی منظوری اور نفاذ سے قبل اس کے مسودے کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے۔

بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کی جانب سے بدھ9 دسمبر کو مقامی ہوٹل میں ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا جائیگا یہ اجلاس یورپی یونین کے پروگرام (پی ایف ایم 2) کی گائیڈ لائنز کے مطابق منعقد کیا جا رہا ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اس پالیسی پر غور اور تجاویز پیش کرنے کیلئے دعوت دی جائیگی۔

اجلاس میں وفاقی اداروں، صوبائی محکموں، چیمبر آف کامرس کے نمائندوں سمیت قانونی ماہرین اور دیگراسٹیک ہولڈرز شرکت کرینگے، بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے چیف ایگزیکٹو فرمان زرکون نے بلوچستان سرمایہ کاری پالیسی کو ایک انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان ملک کا واحد اور پہلا صوبہ ہے جو اپنی سرمایہ کاری پالیسی لا رہا ہے، اس پالیسی کے نفاذ سے نہ صرف صوبے میں بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔

بلکہ سرمایہ کاری اور بزنس کی راہ میں حائل رکاوٹیں بھی دور ہونگی، وزیر اعلیٰ جام کمال خان کی قیادت میں صوبائی حکومت نے سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے کئی تاریخی اقدامات اٹھائے ہیں جن کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں، سرمایہ کاری پالیسی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو صوبے کی ترقی و خوشحالی کیلئے اہم ثابت ہو گی اور یہاں تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا۔