|

وقتِ اشاعت :   December 4 – 2020

پنجگور: پنجگورپولیس فائرنگ سے جاںبحق شہری صابر سلیمان کے رشتہ داروں اور سول سوسائٹی کا انصاف کے حصول کے لیے جمعرات کو دوسرے روز بھی ڈی سی آفس کے باہر احتجاج کرکے دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور صابر سلیمان کے معصوم بیٹے اور معزور بھائی اور دیگر رشتہ داروں پر باپ اور بھائی کی لاش کو چوری کرکے لے جانے کا بھونڈا ایف آئی آر واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہونیوالے تسپ پنجگورکے رہائشی معروف شخصیت صابر سلیمان کے رشتہ داروں اور تسپ سول سوسائٹی کی جانب سے تسپ سے ایک ریلی نکال کر ڈی سی آفس کے باہراکر احتجاج کرکے مین روڑ پر دھرنا دیا احتجاج کرنے والوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز بھی اٹھارکھے تھے جن پر پولیس فائرنگ سے جاںبحق ہونے والے صابر سلیمان کے خاندان کو انصاف فراہم کرنے کے مطالبات درج تھے۔

احتجاجی شرکاء نے کہا کہ ہم انصاف کے حصول کے لیے یہاں جمع ہیں اور اس ملک کے پرامن شہری ہیں جائز اور پرامن احتجاج ہمارا جائز حق ہے پولیس متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کی بجائے کراس ایف آئی آر کے زریعے معاملہ دبانے کی کوشش کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صابر بلوچ کوئی مجرم نہیں تھا اور نہ ہی وہ پولیس کو مطلوب تھا پولیس کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ وہ لوگوں کو گولی مار قتل کردے انہوں نے کہا کہ مہذب معاشروں میں عوام پر ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کیا جاتا ہے مگر ہمارے ساتھ ہونے والی مظالم پر جانبداری کا مظاہرہ کیا جارہا ہے پولیس افسران قاتلوں کی پشت پناہی کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اپنا احتجاج اس وقت تک جاری رکھیں گے۔

جب تک زمہ دار اہلکاروں کے خلاف ایف آئی ار درج کرکے انھیں گرفتار نہیں کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم وزیراعلی بلوچستان چیف جسٹس بلوچستان اور چیف سیکر ٹری سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرائیں ۔