کوئٹہ: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ ملتان کے جلسے پر کریک ڈائو ن کے بعد حکومت نے آئی جی پولیس کے ذریعے یوٹرن لیا، پی ڈی ایم کو احتجاج پر مجبور کر کے حکومت نے اپنے پائوں پر خود کلہاڑی ماری ہے، پی ڈی ایم عوام کے حقوق، جمہوریت کی بحالی تمام اداروں کی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے،عمران خان اور انکی ٹیکنوکریٹ کابینہ کے خلاف عوامی احتجاج اور جلسے ریفرنڈم ثابت ہوئے ہیں۔
بلوچستان میں حکومت کی رٹ ختم ہوچکی ہے اغواء برائے تاوان، قبضہ مافیا ،جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، پی ڈی ایم کی مرکزی قیادت کو یہ باور کرواتے ہیںبلوچستان اسمبلی سے استعفیٰ تو کیا ہم اپنی جان بھی قربان کر سکتے ہیں، اسلام آباد اور لاہور کے جلسوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو پورے بلوچستان کو جام اور سخت مذاحمت کریں گے ۔ یہ بات جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع، پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر و سینیٹر عثما ن خان کاکڑ، بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ، نیشنل پارٹی کے خیر جان بلوچ، عوامی نیشنل پارٹی کے رشید خان ناصر۔
مرکزی جمعیت اہلحدیث بلوچستان کے عصمت اللہ سالم، پاکستان پیپلز پارٹی کے ولی محمد قلندرانی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عبدالوہاب اٹل نے جمعہ کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی صدر مولانافضل الرحمن کی کال پر ملتان میں جلسے اور پی ڈی ایم رہنمائوں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈائون مقدمات درج کرنے اور گرفتاریوں کے خلاف میزان چوک پر احتجاجی ریلی اور مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔
اس موقع پر بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ، پشتو نخواء میپ کے رہنماء سابق صوبائی وزیر عبدالرحیم زیاتوال، ارکان صوبائی اسمبلی اختر حسین لانگو ، نصر اللہ زیرے، احمد نواز بلوچ، حاجی نواز کاکڑ، جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر عبدالرحمن رفیق، مولانا خورشید احمد، نیشنل پارٹی کے رہنماء عطاء اللہ بنگلزئی، پشتونخوا میپ کے رہنماء کبیر افغان و دیگر بھی موجودتھے ۔
مقررین نے کہا کہ کورونا بہانہ ہے پی ڈی ایم نشانہ ہے تمام سازشوں کے باوجودملتان کا جلسہ کامیاب ہوا جو کہ حکومت کے منہ پر تمانچہ ثابت ہوا عظیم الشان جلسہ حکومت کے خلاف ریفرنڈم ہے ملتان کے جلسے میں حکومت نے پسپا ہوکر اس مرتبہ ایک آئی جی کے ذریعے یو ٹرن لیااور سارے وزراء بھاگ نکلے، انہوں نے کہا کہ آج کا احتجاج پی ڈی ایم کے شیڈول میں شامل نہیں تھا ۔
لیکن حکومت کی حماکت نے ہمیں روزانہ کی بنیاد پر احتجاج پر مجبور کر کے حکومت نے اپنے پائوں پر خود کلہاڑی ماری ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ سیاسی مذاحمت سے بخوبی آشنا ہیں احتجاج ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے،یہ مذاحمت ہمیں ورثے میں ملی ہے ہم پی ڈی ایم کی مرکزی قیادت کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ بلوچستان اسمبلی سے استعفیٰ تو کیا ہم اپنی جان بھی قربان کر سکتے ہیں ۔
مقررین نے کہا کہ 1971کے بعد 2020میں حالات بہت نازک ہیں جسکی وجہ سے پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں اقتدار کی نہیں بلکہ اقدار کی جنگ لڑ رہی ہیں جو کٹھ پتلی وزیراعظم اپنے گھر کو چلا نہیں سکتا وہ پورے ملک کو کیسے چلا پائیگا، مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں اس حکومت کا جنازہ پڑھا کر دم لیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم تمام اداروں کو اپنی حدود میں دیکھنا چاہتے ہیںپی ڈی ایم ملک میں عدلیہ، میڈیااور تمام اداروںکی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک پر غیر آئینی اور غیر جمہوری قوتیں مسلط ہیں پہلے تو صرف جمعیت علماء اسلام نے آزادی مارچ کیا تھا اب تو 11جماعتیں متحد ہوکر عوام کی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہیں اب عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے حکومت نے جو وعدے کئے وہ سب جھوٹے ثابت ہوئے کروڑوں نوکریاں اور نوجوانوں کو روزگار دینے کے بلند و بانگ دعوے کئے گئے مگر لاکھو ں لوگوں کو بے روزگاری کردیا گیا۔
معیشت صفر ہوچکی ہے مہنگائی اور معاشی بدحالی کے ذمہ دار عمران خان اور انکی ٹیکنوکریٹ کابینہ ہے کابینہ میں شامل افراد پرویز مشرف کی باقیات ہیںانہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سولین حکومت نہیںگوادر تا ژوب سینکڑوں چیک پوسٹ موجود ہیں لیکن لینڈ مافیا ،قبضہ گروپوں اور اغواء برائے تاوان والے عناصر دنددناتے پھر رہے ہیں حکومت کی رٹ عملی طور پر ختم ہوچکی ہے جبکہ حکومت کے اختیار میں کچھ نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ 1947سے لیکر اب تک سب سے بڑا مسئلہ آئین و جمہوریت کی حقیقی بحالی ہے آئین کی بالا دستی کی بات کرنے والوں کو غدار کہا جاتا ہے غدار دراصل وہ ہیں جنہوں نے آئین کی مقدس کتاب کو پائوں تلے روند ا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل ڈاکہ ڈالا جارہا ہے ایک ایسی جماعت کو حکومت دی گئی جسکی عمر نو ماہ تھی’’ باپ ‘‘کی شکل میں بلوچستان کو لوٹا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور لاہور کے جلسے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی گئی تو بلوچستان میں ضلع ضلع ،یونٹ یونٹ صوبہ جام اور سخت عوامی مذاحمت ہوگی یہ بات اٹل ہے کہ پی ڈی ایم کی تشکیل الیکشن کے لئے نہیں بلکہ کے عوام کے جمہوری حیثیت کو بحال کرنے اور انکے آئینی حقو ق دلوانے کے لئے ہے، انہوں نے کہا کہ آج وزیراعظم ہائوس، وزیراعلیٰ ہائوس کی کوئی حیثت نہیں ہے۔
اگر حیثیت ہے تو بقول شیخ رشید گیٹ نمبر 4کی ہے۔دریں اثناء پی ڈی ایم کے زیرِ اہتمام خضدار میں بلوچستان نیشنل پارٹی،جمعیت علماء اسلامنیشنل پارٹی،پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے احتجاجی ریلی و مظاہرہ کیاگیاریلی کے شرکا مرکزی جامع مسجد سے ہوتا ہوا شہر کے مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے آزادی چوک پر جلسے کی شکل اختیار کیریلی کی قیادت بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر شفیق الرحمٰن ساسولی جمعیت علماء اسلام کے ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا عنایت اللہ رودینینیشنل پارٹی کے ضلعی نائب صدر میرسلمان جان زہری،پاکستان پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر سجادزیب حسنی کررہے تھے ۔
ریلی میں جے یوآئی،بی این پی این پیپی پی پی کے کارکنان کثیر تعداد میں شریک تھے ریلی سے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا قمرالدین،بی این پی کے ضلعی صدر شفیق الرحمٰن ساسولینیشنل پارٹی کے ضلعی نائب صدر میرسلمان زہری پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر سجادزیب حسنی،مامامحمدرحیم خدرانی(پی پی)، عبدالوہاب غلامانی(این پی)،حاجی محمداقبال بلوچ (بی این پی)مولانا عنایت اللہ رودینی (جے یوآئی) و دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کی کامیابی کو یقینی قرار دیا انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم نتیجہ خیز مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
غیرجمہوری قوتیں بوکھلاہٹ کا شکارہیںوہ دن دور نہیں جب ہماری ووٹ کی عزت ہوگی انہوں نے کہا کہ موجودہ سلیکٹڈ حکمرانوں کو انجام تک پہنچا کر دم لیں بوکھلاہٹ کا شکار حکمران پی ڈی ایم کے جلسوں کو ناکام کرنے کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے تاکہ اپوزیشن خوف ذدہ ہوکر حکومت مخالف تحریک سے باز آجائے انہوں نے کہا کہ جسطرح ملتان میں پی ڈی ایم کیں شامل جماعتوں کے قائدین پرمقدمات قائم کرکے حکومت سمجھتی ہے کہ وہ اپوزیشن کو پسپا کرے گی انشا اللہ ہم نہیں بلکہ حکومت کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گی۔
انہوں نے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو آپس میں متحد رہنے پر زور دیا اسٹیج سیکرٹری کے فرائض بی این پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری عبدالنبی بلوچ جمعیت علماء اسلام کے ضلعی سیکرٹری اطلاعات و نشریات مولانا بشیراحمد عثمانی، نیشنل پارٹی کے ضلعی رابطہ سیکرٹری ناصرکمال بلوچپاکستان پیپلز پارٹی کے تحصیل صدر جمیل قادر اور معاون اسٹیج سیکرٹریز کے فرائض بی این پی سٹی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمدبخش مینگلجمعیت طلباء اسلام کے ضلعی صدر مولانا بلال احمد مردوئی نے سرانجام دیئے۔
دریں اثناء پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی کال پر مستونگ میں بھی پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے زیر اہتمام سلطان شہید چوک پر احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔جس میں پی ڈی ایم کے سینکڑوں کارکنوں نے شرکت کی۔اس موقع پر احتجاجی جلسہ سے جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر مولانا حافظ سعید الرحمان جنرل سیکریٹری ڈاکٹر فیصل منان شیخ الحدیث مولانا سیف اللہ حافظ غلام اللہ ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر حاجی نظر جان ابابکی۔
سنٹرل کمیٹی کے ممبر ملک عبدالرحمان خواجہ خیل ،نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر حاجی نزیر سرپرہ، تحصیل صدر نثار مشوانی ، میر سکندر ملازئی پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر محمد قاسم علیزئی ،منارٹی ونگ کے صوبائی نائب صدر الیاس بھٹی جمعیت علماء پاکستان کے جمعیت علماء پاکستان کے ضلعی امیر مولانا عبدالوحید ربانی بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی کمیٹی کے رکن جہانگیر منظور بلوچ ، زونل صدر عدنان شاہ ، بی ایس او پجار کے سابق زونل صدر ناصر بلوچ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ سلیکٹڈ حکومت کو اب ہرحال میں گھر جانا ہو گا۔پی ڈی ایم کے تحریک ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
انھوں نے کہا 2018 کے عام انتخابات میں سلیکڑوں نے عوام کی رائے شماری پر ڈاکہ ڈال کر حقیقی سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگا کر کرپٹ نا اہل اور عوام دشمن جماعت کو مسلط کر کے ملک کو تبائی و بربادی کی طرف دھکیل دیا ہے۔اب ملک اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اب نہسلیکٹڈ اور نہ ہی سلیکٹروں کے ساتھ آگئے بڑھ رہی ہے۔۔انھوں نے کہا کہ کٹپتلی حکمرانوں نے عوام کو مہنگائی کرپشن لاقانونیت اور بیڈگورننس کے سوائے کچھ نہیں دیا ہے۔
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت ایک سلیکٹڈ اور نااہل حکومت ہے۔۔ ملکی معیشت تباہ ہوچکی ہے آج پورے ملک میں احتجاجی جلسہ عام اور مظاہرے ہورہے ہے ملک کی حقیقی جمہوریت پسند جماعتوں کی اتحاد پی ڈی ایم اس کرپٹ حکومت کی خاتمے کیلئے جو تحریک شروع کی ہے یہ تحریک اس مسلط شدہ حکومت کی خاتمے تک جاری رہیگی۔انھوں نے کہا 13 دسمبر کو لاہور میں پی ڈی ایم کے تاریخی جلسہ عام کٹپتلی حکمرانوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہونگے۔