|

وقتِ اشاعت :   December 6 – 2020

دالبندین: جمہوری وطن پارٹی کے سابقہ مرکزی سیکرٹری جنرل و بلوچ بزرگ سیاسی رہنماء میر رؤف خان ساسولی نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل اکثر و بیشتر سیاسی جماعتوں نے ماضی میں وقتآ فوقتآ حکمرانی کی ہے ان کی بھی ایسی کارکردگی نہیں رہی جس کی تعریف کی جاسکے موجودہ حکومت کے بھی حالات ماضی کے حکومتوں کی طرح ہے ہونا تو یہ چایئے تھا کہ بلوچستان کی عوام کو کاروباری تجارتی اور ترقی کے معاملات پر بھی ساتھ لے کر چلنا چائیے۔

لیکن بد قسمتی سے بلوچستان کے لوگوں کی کاروباری معاملات میں رکاوٹیں اور سازشیں کی جارہی ہیں چاغی ضلع میں پتھر کے کاروبار اور معدنی وسائل میں بھی بلوچ کو نت نئے چیلنجز کا شکار بنایا جارہا ہے تو ایسی صورتحال کا فی الفور نوٹس لینا چاہیے وفاقی اداروں میں بلوچستان کے کوٹے پر عملدرآمد کو یقینی بنائی جائے بلوچ عوام کی وطن جس ملک میں شامل ہے جتنا ان کو اپنی وطن سے محبت ہے ۔

اس ملک سے ان کی محبت فطری بات ہوگی بلوچ کی حب الوطنی پر کسی کو شک نہیں ہونی چاہیے اس ملک کی ترقی اور بہتری کیلئے تمام قومیتوں کو مل کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانی چائیے وفاقی حکومت وزیروں مشیروں اور ایم پی ایز کی باتوں کو ضرور سنے مگر عوام کی بہتری اور بھلائی کے لیے براہ راست اقدامات اٹھائے گذشتہ 75 سالوں میں ملک کے غریب عوام کی بھلائی کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

عوامی پسماندگی نوجوانوں کی بیروزگاری نے احساس محرومی میں اضافہ کردیا ہے عمران خان سے بڑی امیدیں وابستہ تھی لیکن اس کی کارکردگی سابقہ حکمرانوں سے بھی بد تر ہوگئی اب بھی عمران کے پاس وقت ہے کہ وہ عوام کی بھلائی کیلئے کردار ادا کریں روف خان ساسولی نے کہا کہ چاغی کے عوام کو قبیلہ پرستی کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی چاغی کے عوام کو قبیلہ پرست اور موقع پرستوں سے نجات دلائیں۔

اور عوام دوست سیاسی قیادت نصیب ہوجائے چاغی کے عوام کو اب ایک حقیقی لیڈر کی ضرورت ہے چاغی کے پہاڑوں میں ٹھیکیداری نظام مزدوری نظام کے ساتھ ساتھ باہر کے بڑے بڑے کاروباری لوگ آتے ہیں اور کاروبار تجارت کررہیہیں جس سے ہمارے لوگ بھی کچھ سیکھ رہے ہیں اور کاروباری لوگ بن جائیں گے ۔