|

وقتِ اشاعت :   December 7 – 2020

کوئٹہ: پی ڈی ایم کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ ملک کو تمام بحرانوں سے نجات پی ڈی ایم کے سیاسی وجمہوری پروگرام پر عمل کرنے میں ہے پی ڈی ایم کی سیاسی جمہوری قیادت ہی ملک کی عالمی تنہائی ختم کرسکتی ہے اور ملک میں شفاف الیکشن جس میں اسٹیبلشمنٹ او ران کے ایجنسیوں کی مداخلت نہ ہو اس کے نتیجے میں قائم حقیقی جمہوری حکومت ہی ملک کے استحکام اور خوشحالی کا باعث ہوسکتی ہے۔

موجودہ سلیکٹڈ اور مسلط حکومتیں عوام کی نمائندہ نہیں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنمائوں عبدالرحیم زیارتوال ، مولوی شیر جان ،سردار حبیب الرحمن دومڑ ، نعمت اللہ متو، فرید خان دومڑ ، مولوی موسیٰ جان اور نصراللہ نے سنجاوی ، اور مولوی سرور موسیٰ خیل ،خان میر لالا ،عید محمد خان ،ڈاڈان حاجی ، مولوی اسماعیل، مولوی معاذ اللہ نے ضلع موسیٰ خیل اور مولوی عزیز اللہ حنفی ، سید مطیع اللہ آغا، اصغر خان ایم پی اے ، حاجی اکبر خان ۔

علی محمد کلیوال ، حاجی نظام کاکڑ، عبدالباری کاکڑ، سعد اللہ ترین نے ضلع پشین، مولانا ادریس ، مولوی عطا ء اللہ ، احمد خان لونی، یار محمد بنگلزئی، واجہ یعقوب گشکوری ، غلام رسول سیلاچی ، ظہور مگسی ، سعید خان خجک نے ضلع سبی ، اور مولانا فیض اللہ ،عبید اللہ جان بابت، منظور کاکڑ ،رحمت اللہ کاکڑ، حاجی بلوث خان اتمانخیل، صفدر میختر وال ، گنو خان ، عطاء اللہ کاکڑاور قاری سنزر نے ضلع لورالا ئی میں احتجاجی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

جبکہ پی ڈی ایم کے مرکزی قیادت کے اعلان کے مطابق ان تمام مقامات پر ملتان میں حکومت کی غیر قانونی رکاوٹوں ، غیر قانونی گرفتاریوں اور سیاسی رہنمائوں وکارکنوں پر تشدد کے خلاف ریلیاں منعقد کی گئی اور سلیکٹڈ حکومتوں کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی گئی ۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2018کے عام انتخابات جو ملک کی تاریخ کے سب سے متنازعہ اور دھاندلی زدہ انتخابات تھے۔

اور اس کی بنیادپر الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن ہوا تھا ملک پر مسلط ناکام سلیکٹڈ حکومت نے ہر شعبہ زندگی کو تنزلی سے دوچار کردیا ہے اور اٹھارویں ترمیم و این ایف سی ایوارڈ کو ختم کرنے اور پارلیمنٹ کو بے توقیرکرکے ان کی حیثیت کو پائمال کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ او رملکی آئین اور آئین کے تحت کردار ادا کرنیوالے اداروں کو بے حیثیت کرنا اس مسلط حکومت کا ایجنڈا رہا ہے اور اس نااہل سلیکٹڈ حکومت کے باعث ملکی معیشت تباہ ہوچکی ہے۔

جی ڈی پی یعنی شرح نمو منفی 4تک پہنچ چکا ہے ،زرعی وصنعتی پیداوار 50فیصد کم ہوگیا ہے اور اب تک ملکی تاریخ کے جتنے بھی سیاسی حکومتیں گزر چکی ہے ان تمام کا 2018تک مجموعی قرضہ 26ارب ڈالر تھا اور موجودہ نااہل اور سلیکٹڈ حکومت نے صرف دو سالوں میں 14ارب ڈالر قرضہ لیکر ملک کو مزید بحرانوں میں مبتلا کردیا ہے اور ملک عالمی طورپر مکمل تنہائی کا شکار ہے ۔

اور اسی طرح اسٹیبلشمنٹ اور اس کی ایجنسیاں جو خود ملکی آئین کے تحت حلف (قسم ) لیکر ملک کی سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن سیاست سمیت ہر شعبہ زندگی میں ان کی مداخلت عام معمول بن چکی ہے ۔