|

وقتِ اشاعت :   December 8 – 2020

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء ممبرمرکزی کمیٹی چیئرمین جاویدبلوچ نے انٹرکالجز کوڈگری کادرجہ دینے پرکہاہے کہ کالجوں کواپ گریڈکرنا احسن اقدام ہے لیکن مسئلہ انٹرکاجوں کوڈگری کادرجہ دینا نہیں ہے اصل مسئلہ ان اداروں کی فعالیت کا ہے۔

ان اداروں میں جوانٹرتھے بنیادی سہولیات کافقدان رہاہے ان میں طلباء طالبات کودرس تدریس لیبارٹریز سائنسی آلات فنی وپیشہ ورانہ موادکی کمی لیکچرزواوران میں موسمی حالات کے مطابق بنیادی ضروریات اب بھی ناپید ہے اکثراداروں میں سائنسی مضامین کی لیکچررزموجودنہیں کالج سائیڈ اپنی جگہ سکول میں اساتذہ کی کمی کوڈھائی سال سے تاحال پورانہیں کیاگیا موجودہ حکومت تعلیم پرسیاست کررہی ہے۔

کروناکے نام پرگزشتہ بجٹ کی بھندربانٹ کی گئی اورموجوبجٹ میں اب تک تعلیم پرکوئی رقم خرچ نہیں کیاگیاہے لاک ڈان درحقیقت وسائل لی لوٹ کھسوٹ کانام ہیاگرحکومت سنجیدہ ہوتے توتعلیمی اداروں کو بندکرنے کے بجائے ترجیحی بنیادوں پرجس ضلع میں یادیہی علاقوں میں کوروناسے بدترپسماندگی وصحت کے بنیادی ضروریات پہلے سے موجودہے۔

تووہاں تعلیمی اداروں کوبند نہ کرتے اورکوروناکاسرکاری بنیادوں پرخدشہ ظہارکرکے اپنے مقاصدکیلئے اداروں سکول کالجز یونیورسٹیزکوبند کرنے کے بجائے ایس اوپیزپرعملداری کیلئے سہولیات فراہم کرتے یہ عجیب منتق ہے کوئٹہ بازاروں لوگ ایک دوسریلپٹ کرسوداگری میں مصروف بسوں میں بھیڑبکریوں کی طرح لوگوں کوٹھوس کرسفرکرایاجاتاہے تواسکول کالجزیونیورسٹیزبندجبکہ انٹرکوڈگری کی بنیادپر بغیرسہولیات کلاسوں کی طرح اپ گریڈکرنا۔

اکیسویں صدی کاسب سے بڑامزاق ہے جوتعلیم کینام جام سرکارکررہاہے بی این پی عجلت میں کئے گئے حکومتی پالیسیوں کومستردکرتی ہے اورمتنبہ کرتا ہے کہ بلوچستان کے طلباء طالبات کے وقت کے ضیاء اورجہالت کوپروان چڑھانے کی علم دشمنی کوبرداشت نہیں کریگااوران نقصانات کیزمہ داروں کوعوام دشمن علم کش پالیسیوں پرکبھی بھی معاف نہیں کرے گا۔

انہوں نے مطالبہ کیاکہ اسکول وکالجزاوریونیورسٹیز کیمپسوں میں درس تدریس کیلئے عملہ اورلیبارٹریزسامان بہم پہنچائی جائے اوربلوچستان بھرکے بجائے کروناسے متاثرہ علاقوں کیتعلیمی اداروں کیعلاوہ باقی اضلاع کے تعلیمی اداروں کھول کرنوکوان نسل کی علمی تعلیمی نسل کشی بندکیاجائے۔