کوئٹہ: ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان فرمان اللہ خان نے کہا ہے کہ کرپشن کے مکمل خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانا ہونگے، موجودہ نظام کی خرابیاں اور نقائص دور کرکے ایمانداری، صداقت اور میرٹ کی مضبوط بنیادوں فراہم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
کرپٹ عناصر کی وجہ سے ملک کو اربوں روپوںکا نقصان اٹھانا پڑا، اربوں روپے مالیت کے پٹ فیڈر منصوبہ میں کرپشن کے باعث بلوچستان کی عوام کو کوئی فائدہ نہیں مل سکا، محکمہ صحت کی بدعنوانی سے عوام کے لیے نہ تو دوائیں مل رہی ہیں نہ ہی بنیادی سہولیات، حکومت اور معاشرے کی باہمی کوششوں سے کرپشن پر قابو پایا جا سکتا ہے، ان خیالات کا اظہار۔
انہوں نے صوبائی حکومت کے تعاون سے انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان عالیانی، چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن ریٹائرڈ فضیل اصغر، آئی جی پولیس بلوچستان محسن بٹ، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان ڈاکٹر شفیق الرحمن، ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان آصف لودھی اور ممبر نیشنل کمیشن فار وومن رائٹس بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان نے کرپشن کے خلاف بیورو کی عدم برداشت کی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے سے کرپشن کے تدارک کیلئے مشترکہ اقدامات دوررس نتائج کے حامل ہوں گے۔ کرپشن صرف مالی مفادات لینے کا نام نہیں، طاقت اور اختیارات کا غلط استعمال اور اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی بھی بدعنوانی ہے۔
انہوں نے سسٹم کی خرابیوں پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی برائیوں کی وجہ سے ہم تباہی کی جانب جارہے ہیں، ھمارے سینئر ہمیں بہتر سسٹم دے کر گئے جبکہ ھم تباہ حال نظام دے کر جائیں گے، ایک طرف تو کہا جا رہا ہے کہ نیب اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے کام نہیں ہو رہا ہے جبکہ دوسری جانب سو فیصد کرپشن اپنی حدوں کو چھو رہی ہے۔
کرپشن کی روک تھام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈی جی نیب بلوچستان کا کہنا تھا کہ ارباب اختیار کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، تاہم اجتماعی کوششیں بدعنوانی کے عفریت کے خلاف بارآور ثابت ہوں گی۔