کوئٹہ: حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہاہے کہ اپوزیشن استعفیٰ لے سکتی ہے اور نہ ہی دے سکتی ہے بلکہ یہ صرف ایک شوشہ ہے ، کورونا کیسز میں اضافہ پریشان کن ہے خدشہ ہے کہ سردی کی شدت میںاضافے کے ساتھ کورونا کیسز میں اضافہ ہوگا اس لئے اپوزیشن جماعتیں اپنا احتجاج 4ماہ تک ملتوی کریں ، اس وقت صوبے میں کورونا کے24مریض آئی سی یوز میں ہیں تاہم خوش قسمتی سے کوئی بھی مریض وینٹی لیٹر پر نہیں ہے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کوئٹہ میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میںکورونا مریضوں کی بڑھتی تعداد تشویشناک ہے اکتوبر میں کورونا مریضوں کی شرح 2.1فیصد تھی جو گزشتہ ماہ 7فیصد تک جا پہنچا جبکہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں یہ شرح 11.4فیصد ریکارڈ کی گئی تاہم گزشتہ کل 6سو 4سمپلز لئے گئے تھے جن میں سے 39کیسز سامنے آئے جن کی شرح 6.5فیصد کی ہے ۔
انہوںنے کہا کہ دسمبرکے پہلے کورونا سے 4مریض انتقال کرگئے ہیں اور اس وقت کورونا سے متاثرہ 24مریض آئی سی یوز میں ہیں تاہم خوش قسمتی سے کوئی بھی مریض وینٹی لیٹر پر نہیں ہے۔ انہوںنے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر زیادہ خطرناک ہے کیونکہ پہلی لہر کے دوران عوام خوف کی وجہ سے ایس او پیز پر عمل درآمد کررہے تھے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں سمیت تمام سیاسی رہنماء اور پارٹیاں کورونا کے خلاف ایک پیج پر تھے۔
مگر اب ایس او پیز کا مذاق اڑایا جارہا ہے اور اپوزیشن جماعتیں اجتماعات ، جلسے ، جلوس اورریلیاں نکال رہی ہیں جن میں ایس او پیز کو خاطر میں نہیںلایا جارہا جس سے عوام کو ایک غلط پیغام مل رہا ہے کہ کورونا سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پوری دنیا میں صرف پاکستان کے اندرایک منظم انداز سے کورونا پھیلایا جارہا ہے۔
کوئٹہ میں پی ڈی ایم جلسے کے بعد کورونا میں 3گناء اضافہ ہوا اسی طرح گجرانوالہ جلسے کے بعد پنجاب میں بھی اس مرض میں3گناء اضافہ ہوا تھا اور کراچی جلسے کے بعد سندھ اور ملک میںکیسز میںاضافہ ہوا اور یہ ہمارے لئے مشکل ہورہاہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کرائے یہ وقت جلسے جلوس کا نہیں بلکہ کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانے کا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پی ڈی ایم نہ استعفیٰ لے سکتی ہے۔
اور نہ ہی کوئی استعفیٰ دے گی بلکہ یہ استعفیٰ کا صرف شوشہ چھوڑا گیا ہے ۔ انہوںنے اپوزیش جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جلسوںکو 4ماہ تک ملتوی کرے کیونکہ خدشہ ہے کہ موسم سرماہ میں کورونا شدت اختیار کرسکتا ہے۔ لیاقت شاہوانی نے کہا کہ محکمہ موسمیات 25دسمبر سے سردی کی شدت میںاضافے کی پیشنگوئی کے بعد ہماری ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں ۔