|

وقتِ اشاعت :   December 10 – 2020

کوئٹہ: پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ ہیلپر آئی اسپتال میں امراض چشم کی جدید سہولیات دستیاب ہوں تو ریفرل کیسز کا تدارک کیا جاسکتا ہے پاک افغان بارڈر پر ہیلتھ کئیر فیسلیٹیز میں امراض چشم کی سہولیات فراہم کرکے ہیلپر آئی اسپتال پر مریضوں کا دبا ئوکم کیا جا سکتا ہے۔

ہیلپر آئی اسپتال میں ڈسٹرکٹ اسپتالوں سے میڈیکل ٹیکنیشن کو امراض چشم کی تربیت فراہم کرکے ضلعی سطح پر آنکھوں کی بیماریوں کی طبی ریلیف کے لئے قابل عمل سفارشات مرتب کی جائیں ان خیالات کااظہار پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے ہیلپر آئی ہسپتال کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے دستیاب طبی سہولیات کا جائزہ لیا ، میڈیکل سپریٹنڈنٹ ڈاکٹر رحیم بگٹی نے بریفنگ دی۔

انہوں نے کہا کہ امراض چشم کے علاج معالجے کی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے گا امراض چشم کی تشخیص کے لئے جدید مشینری کی خریداری کے لئے ایم ایس ڈی کو ہدایت جاری کریں گے ہیلپر آئی اسپتال میں امراض چشم کی جدید سہولیات دستیاب ہوں تو ریفرل کیسز کا تدارک کیا جاسکتا ہے ڈاکٹر ر بابہ بلیدی نے کہا کہ پاک افغان بارڈر پر ہیلتھ کئیر فیسلیٹیز میں امراض چشم کی سہولیات فراہم کرکے ہیلپر آئی اسپتال پر مریضوں کا دبا ئوکم کیا جا سکتا ہے۔

ہیلپر آئی اسپتال میں ڈسٹرکٹ اسپتالوں سے میڈیکل ٹیکنیشن کو امراض چشم کی تربیت فراہم کرکے ضلعی سطح پر آنکھوں کی بیماریوں کی طبی ریلیف کے لئے قابل عمل سفارشات مرتب کی جائیں۔

ہیلپر آئی اسپتال کے مسائل حل کرکے اسے بلوچستان میں امراض چشم کے علاج معالجے کا مثالی انسٹی ٹیوٹ بنائیں گے تمام مسائل اور تجاویز سے متعلق وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کو آگاہ کیا جائے گا مسائل کا حل اولین ترجیح ہے ۔