|

وقتِ اشاعت :   December 10 – 2020

اوتھل: جمعیت علمائے اسلام کے اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی مکھی شام لعل لاسی نے کہاہے کہ ملک میں لاقانونیت ،کرپشن اور بے روزگاری عروج پر پہنچ چکی ہے مرکزی اور صوبائی حکومتیں ناکام ہوچکی ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کااپوزیشن اور حکومتی اراکین کو یکساں فنڈز کی فراہمی کا دعویٰ بے بنیاد ہے اپنے قائد اور پی ڈیم ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے حکم پر صوبائی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ اپنی صوبائی قیادت کو بھجوا کر۔

بلوچستان سے پی ڈی ایم کے رکن کی حیثیت سے استعفے کا آغاز کردیا ہے ان خیالات کاا ظہار انہوںنے ایس ایم سی فارم میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا عبدالحمیدعارف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیاانہوںنے کہاکہ پی ڈ ی ایم نے ملک بھر میں جو احتجاجی جلسوں کا آغاز کیا ہے انشاء اللہ اسکا نتیجہ بہت جلد موجودہ حکومت کے خاتمے کی صورت میں آئے گا۔

اپنے قائد مولانا فضل الرحمن کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے بلوچستان سے پی ڈی ایم کے ایک ادنیٰ کارکن کی حیثیت سے صوبائی اسمبلی کی نشست سے اپنا استعفیٰ اپنے صوبائی قائد مولانا عبدالواسع کو بھجوا کر استعفوں کے سلسلے میں بارش کا پہلے قطرے کا آغاز کردیا ہے انہوںنے کہاکہ عوامی مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں اسمبلی میں بیٹھنا ہمارے لئے فضول ہے انہوںنے کہاکہ بلوچستان حکومت کی جانب سے اقلیتی فنڈز میں بندر بانٹ کا ایک سلسلہ شروع کیا گیاہے اوراپنے من پسند لوگوں کو نوازہ جارہاہے جبکہ مجھے فنڈز فراہم نہیں کئے جارہے۔

انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کا یہ دعویٰ کہ اپوزیشن اور حکومتی اراکین کو فنڈز کی یکساں فراہمی عوام کو دھوکے کے سوا کچھ نہیں کیونکہ اگر یہ سچ ہوتاہے تو اپوزیشن کے رکن کی حیثیت سے مجھے فنڈز فراہم کیے جاتے لیکن تاحال مجھے کوئی فنڈنہیں دیاگیابلوچستان میں پوری اپوزیشن کو کھڈے لائن لگادیا گیاہے کیونکہ بلوچستان میں جمہوریت نہیں بلکہ جمہوریت کے نام پر ایک مخصوص ٹولہ بیٹھاہواہے۔

جس نے بندربانٹ کا ایک سلسلہ شروع کیاہے جو اپنے من پسند لوگوں کو نواز رہے ہیںانہوںنے کہاکہ بلوچستان میں اپوزیشن کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی کیونکہ تمام اختیارات وزیر اعلیٰ نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کو میں نے اپنے فنڈز اور دیگرمسائل کے حوالے آگاہ کیا لیکن اس پر کوئی عملدرآمدنہیں ہوا اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حسین احمد مدنی بھی موجود تھے۔