|

وقتِ اشاعت :   December 10 – 2020

کوئٹہ: صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان میں زراعت کے شعبے میں بہتری لانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر حکومت بلوچستان کے ساتھ تعاون کرے زراعت کے شعبے میں ترقی دینے کیلئے ڈیمزپر توجہ دی جائے بلوچستان زراعت کے حوالے سے ایک زرخیز علاقہ ہے اور یہاں پر جو قدرتی سبزیاں پیدا ہوتی ہے ان کا ڈیمانڈ پوری دنیا میں بہت زیادہ ہے۔

کپاس لسبیلہ اور بارکھان میں کاشت کی جاتی ہے اگر وفاقی حکومت چاہئے تو کپاس کی کاشت سبی ،لورالائی ،خضدار میں بھی ہوسکتی ہے ۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے سی اے بی آئی اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تعاون سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ڈی جی ایکسٹنشن ڈی جی زراعت جمعہ خان ڈبلیو ڈبلیو ایف اور سی اے بی آئی کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا ۔

صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہاکہ بلوچستان کی آدھی فیصد آبادی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے اور ان میں نامیاتی یعنی قدرتی سبزیاں پیدا ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ ہم ڈبلیو ڈبلیو ایف اور سی اے بی آئی کے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے بلوچستان میں زراعت کے شعبے میں بہتر لانے اور ان میں مزید اچھے اقدام اٹھانے پر جو کچھ کیا ہے ان کا ہم شکریہ ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان زراعت کے 80فیصد آبادی پر انحصار کرتی ہے اور زراعت کا شعبہ ہی بلوچستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرسکتی ہے وزیراعلی بلوچستان میر جام کمال خان بھی صوبے میں زراعت کے شعبے میں بہتری کے خواہاں ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے ہدایات بھی جاری کی ہے کہ صوبے کے زمینداروں کو استفادہ دینے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائی جائے۔