تربت: مرکزی جمعیت اھل حدیث بلوچستان کے ناظم اعلی مولانا عبدالغنی زامرانی نے کہاکہ گوادر بلوچستان کی ملکیت ہے گوادر کیخلاف سازشیں قابل قبول نہیں،انہوں نے کہاکہ سی پیک کے نام پر گوادر وبلوچستان کی ترقی کی نوید ہمیں سنائی گئی مگر جو خدشات اور خوف تھے وہ آہستہ آہستہ منظر عام پر آنے لگے ہیں، انہوں نے کہاکہ گوادر کے شہریوں کو باڑ بند کرنا کسی حیوان کو پنجرے میں بند رکھنے کی مترادف ہے۔
اور یہ چیز انسانی قوانین کی بنیادی خلاف ورزی ہے اور آئین وقانون کی پائمالی ہے آئین میں کسی شہر کو باڑلگاکر بند رکھنے کی گنجائش نہیں.انہوں نے کہاکہ گوادر شہر کو سیکیورٹی کے نام پر باڑلگاناہماری مرضی ومنشاء کیخلاف ہے بلوچستان کے سنجیدہ سیاسی رہنماؤں کو اس پر بیٹھ کرکے متفقہ لائحہ عمل طے کرناچاہیے۔
اور ایسے اقدامات کیخلاف اٹھنا چاہیے آئین اور قانون کے اصولوں کیمطابق جدوجہد کرنا چاہیے انہوں نے کہاکہ گوادر کو باڑلگاکر یا ساحلوں کو وفاقی حصہ قراردینا ملک میں انتشار پھیلانے کی سازش ہے جس سے ملک غیر مستحکم ہوگا ہمیں قبول نہیں کہ پرامن شہریوں کو پنجرے میں قید رکھ کر انکی آزادی کوسلب کیاجائے۔