کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صوبائی جنرل سیکرٹری و سابق اسپیکر جمال شاہ کاکڑ نے کہا ہے کہ حکومت کی عدم توجہ اور نااہلی وجہ سے مہنگائی عروج پر ہے سرکاری اعداد وشمار اور وزیراعظم کے بیانات کی حد تک مہنگائی میں کمی ضرور آئی ہے تاہم مارکیٹ میں چیزیں 100گنا مہنگی فروخت کی جارہی ہیں انڈے 220روپے فی درجن، مرغی فی کلو350روپے، چینی 110روپے فی کلو،بیس کلو آٹا 1300روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔
جبکہ مہنگائی ،غربت ،بے روزگاری بڑھنے سے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے اگر صورتحال یہی رہی تو ملک میں انتشار پھیل جائیگا، یہ بات انہوں نے یہاں جاری اپنے ایک بیان میں کہی، جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی مہنگائی کی لہر سے عوام پریشان ہیں سرکاری اعداد و شمار اور بیانات ایک طرف جبکہ عوام کو مہنگے داموں اشیاء خورونوش خریدنے پر مجبور کردیاگیا ہے۔
جبکہ انتظامیہ اور حکومتی مشینری خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ آج کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں انڈے 220روپے فی درجن، مرغی فی کلو350روپے، چینی 110روپے فی کلو،بیس کلو آٹا 1300روپے ،گوشت 1100سو روپے فی کلو، سبزیاں اور دالیں 100گنا زیادہ قیمت میں فروخت ہورہے ہیں غریب عوام کے گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔
لوگ دو وقت کی روٹی کے محتاج ہوتے جارہے ہیں لیکن حکومت سب اچھا ہے کا راگ الاپ رہی ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے چینی 81روپے فروخت سمیت مہنگائی میں کمی کے بیان کو مسترد کرتے ہیں۔