|

وقتِ اشاعت :   December 13 – 2020

ڈیرہ اللہ یار: یوٹیلٹی اسٹورز سے آٹا غائب مارکیٹ میں آٹے کی قیمت ساڑھے چوبیس سو روپے فی من مقرر حکومت کا سستی روٹی کا دعویٰ بے سود ثابت ہوگیا رپورٹ کے مطابق ڈیرہ اللہ یار میں یوٹیلٹی اسٹورز سے آٹا غائب ہے یوٹیلٹی اسٹورز انچارجز کا کہنا ہے کہ دو ہفتوں سے ویئر ہاوس میں آٹے کی کمی کے باعث ڈیرہ اللہ یار سمیت جعفرآباد اور صحبت پور اضلاع کے شہروں کو آٹے کی سپلائی بند کردی گئی ہے۔

یوٹیلٹی اسٹورز پر آٹا دستیاب نہ ہونے سے مارکیٹ میں تاجروں نے آٹے کی قیمت میں خودساختہ طور پر پچاس روپے اضافہ کردیا ہے جسکے بعد مارکیٹ میں فی من آٹے کا تھیلا ساڑھے چوبیس سو روپے میں فروخت ہونے لگا ہے یوٹیلٹی اسٹورز پر آٹے کی عدم دستیابی اور مارکیٹ میں آٹے کی قیمت میں اضافے نے حکومت کا سستی روٹی فراہمی کے دعوے کو بے سود بنا دیا ہے ۔

عوام آٹے کی خریداری کے لیے سخت پریشان ہیں جبکہ بعض افراد نے گندم کی جگہ چاول کے آٹے کا استعمال شروع کردیا ہے یوٹیلٹی اسٹورز انچارجز نے بتایا ہے کہ دو لاکھ آبادی کے شہر میں 6 یوٹیلٹی اسٹورز ہیں جنہیں ہفتہ وار فی اسٹور پر 20 کلو گرام کے پچاس تھیلے فراہم کیے جاتے ہیں جو کہ ناکافی ہیں تاہم دو ہفتوں سے اچانک آٹے کی سپلائی بند کردی گئی ہے۔

آٹے کی خریداری میں گاہک دیگر اشیاء ضرورت بھی خرید لیتے تھے آٹے کی عدم دستیابی کی وجہ سے گاہک دیگر اشیاء بھی خریدنے سے قاصر ہیں انکا کہنا تھا کہ ایریا انچارج نے کوئٹہ زون اور سبی ریجن تک آٹے کی عدم دستیابی کا بتایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آٹے کی خریداری کے لیے یومیہ سیکڑوں افراد اسٹور پر آتے ہیں لیکن آٹے کی عدم دستیابی کی وجہ سے مایوس لوٹ جاتے ہیں آبادی کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیرہ اللہ یار میں یوٹیلٹی اسٹورز کو آٹے کا کوٹہ بڑھا کر فراہمی جلد یقینی بنائی جائے۔