|

وقتِ اشاعت :   December 14 – 2020

بسیمہ: پاکستان کی کٹھ پتلی حکمران اپنے ناکامیوں کو چھپانے اور بلوچستان کے ساحل وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے مزموم سازشوں میں مصروف ہیں کھبی ہمارے ساحل کو نوٹیفکیشن کے زریعے ہم سے چھینے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں اور کھبی بلوچستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی راہ پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں انکو نہ ہمارے پسماندگی سے غرض ہے اور نہ یہ ہمارے خوشحالی چاہتے ہیں۔

بس ان کو بلوچستان کے وسائل کے لوٹنے سے مطلب ہے ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی رخشان ڈویژن کے صدر نعیم بلوچ نے کیا ان کا کہنا تھا اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد بلوچستان کے ساحل اور وسائل بلوچستان کے باسیوں کا ہے چند ملک دشمن عناصر جو آج مسند اقتدار سنبھالیہوہے ہیں یہ ہمارے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں گوادر کو باڑ لگا کر بلوچ سرزمین کو بلوچوں کے لئے شجر ممنوعہ بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔

ہمارے بلوچستان کے فرمائشی حکمران ان کے منہ توڑ جواب دینے کی بجائے ان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں یہ جاہل حکمران بلوچ دھرتی کو بلوچ سے چھینے کی سازشوں میں مصروف ہیں ایک طرف ہمیں ترقی کا خواب دیکھاتے ہیں دوسرے طرف ہمارے بازو کاٹنے پر تلے ہوئے ہیں بلوچ اور بلوچستان کے عوام کے ساتھ بہت ظلم زیادتی ہوا ہمارے وسائلوں کو بیدردی سے لوٹا جارہا ہے اور بدلے میں ہمیں صرف گالی مل رہے ہیں۔

اس نے کہا سی پیک بلوچستان میں ہے اور سی پیک کے منصوبے لاہور میں لگ رہے ہیں غربت اور پسماندگی نے ہمیں چاروں طرف سے گہرا ہے مگر انڈسٹریل زون کہیں اور بن رہے ہیں بلوچ قوم اپنے سر زمین کو قطعا دو حصہ نہ ہونے دیگااور نہ ہی سرمایہ داری کی خداں کو اپنے دھرتی کے ساتھ کھیلنے دیں گے سی پیک کے نام پر ہمارے قوم دھرتی اور ثقافت کو مٹانے کی کوششیں کھبی بار آور ثابت نہیں ہونگے۔

بلوچستان کے بدبخت اقتداری ٹولہ اپنے کرسی کی خاطر اپنی دھرتی ماں کی عزت کو سربازار نیلام کر رہا ہے یہ لالچی اور مداریوں کے جمہورے ہیں ان کو غرض صرف طاقت اور کرسی سے ہیں کیونکہ ہر ہمیشہ سلیکٹرز ان کا انتخاب اس لیے کرتے ہیں کہ یہ بازارسیاست میں اپنا سب کچھ نیلام کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔

اس ملک کے آقاوں کو کہنا چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام کوفیصلے کرنے دو ان کے ووٹ پر ہر ہمیشہ آپ نے ڈاکہ ڈالا ہے اس لئے اس صوبے کی حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں بلوچستان کے باسیوں کے ساتھ رعایا والا اپنارویہ ختم کرو اور ان کو ریاست کے برابر شہری کا حق دو تاکہ یہاں کے باسی سکھ کا سانس لے کر خود کو ملک پاکستان کا شہری سمجھ کر اپنا فیصلہ خود کریں۔