|

وقتِ اشاعت :   December 15 – 2020

حب: نیشنل پارٹی و بی ایس او(پجار) کے زہر اہتمام شہید ڈاکٹر شفیع بزنجو کی پانچویں یوم شہادت پر پارٹی کے ضلعی سیکرٹریٹ حب میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا تعزیتی ریفرنس کے آغاز میں شہداء کی یاد میں دومنٹ کی خاموشی اختیار کی گئی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔

نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر عبدالغنی رند بی ایس او(پجار) کے مرکزی وائس چیئرمین گورگین بلوچ نیشنل پارٹی کے صوبائی ورکنگ کمیٹی کے ممبر خورشید علی رند نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سابق چیئرمین بی ایس او کامریڈ عمران بلوچ بی ایس او(پجار) کے مرکزی سینئر جوائنٹ سیکرٹری ابرار برکت نیشنل پارٹی تحصیل حب کے صدر روشن جتوئی بی ایس او(پجار) بلوچستان وحدت کے جنرل سیکرٹری عابد عمر بلوچ مرکزی کمیٹی کے ممبر ظریف دشتی بلوچستان وحدت کے جونیئر نائب صدر مرید بلوچ۔

نیشنل پارٹی کے ضلعی لیبر سیکرٹری واجہ عبدالغنی رند تحصیل حب کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری صوفی مٹھل فقیر نے کہا کہ شہید ڈاکٹر شفیع بزجو وہ روشن چراغ تھے جس کی روشنی نے آواران جھاو کے عوام کو اندھیرے سے نکال کر ان کی زندگیوں میں اجالا لایا شہید ڈاکٹر شفیع بزنجو ایک شریف النفس خوش مزاج انسان کے ساتھ اعلٰی کردار کے مالک تھے وہ اپنی پوری زندگی مظلوم و محکوم عوام کی خدمت کرتے رہے۔

اس نے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو بخوبی ادا کرنے کے ساتھ ساتھ آواران کے پسماندہ عوام کی تقدیر بدلنے کے لئے دن رات محنت کرتے رہے وہ مظلوم و محکوم عوام کے ہمدرد و امید تھے شوگر کے خطرناک مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود دکھی انسانیت کی خدمت و عوامی سیاسی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے جہد مسلسل پر عمل پیر ہمہ وقت جدوجہد میں مصروف رہے۔

وہ مکمل طور پر جمہوریت پسند سیاسی و سماجی رہنما تھے وہ نوجوانوں کو علم و شعور سے آراستہ چاہتے تھے جس کے لئے انہوں نے بہت سے خدمات سرانجام دیئے لیکن عوام دشمن انتہا پسند قوتوں کو شہید کی جدوجہد ناگوار گزری انہوں نے دن ہاڑے انہیں شہید کرکے عوام کو ان کے مسیحا سے محروم کردیا یہ شہادت ڈاکٹر شفیع کی نہیں بلکہ دکھی انسانیت اور ان کے امیدوں کی شہادت ہے۔

انہوں کہا کہ انتہا پسندی کی اس لہر نے بلوچ کو تبائی کی جانب لاکھڑا کردیا جس سے ہر گھر متاثر ہوا پڑھے لکھے نوجوانوں کی ایک بڑی کھیپ اس انتہا پسندی کی نظر ہوگئی اس انتہا پسندی نے ہم سے ڈاکٹر شفیع بزنجو کے ساتھ عظیم رہنما میر مولا بخش دشتی ڈاکٹر نسیم جنگیان ڈاکٹر لال بخش محمد حسین یعقوب بلوچ و دیگر رہنما و سیاسی کارکنان ڈاکٹرز انجنئرز پروفیسرز وکلا ء￿ صحافی جسمانی طور پر جدا کیے۔

انہوں نے کہا تنگ نظرانہ انتہا پسندانہ نظریات و رجحانات سماج و معاشرے کے لئے انتہائی تباہ کن ہیں سیاست میں تشدد عدم برداشت انتہا پسندی جذباتیت کے رویے مہم جوئی ایسی زہر ہیں جو قوم کو نست و نابود کردیتی ہے۔

جو برادر کْشی کو جنم دیتی ہے بلوچ کی بدقسمتی یہ کہ بلوچ ہر طرف سے مار کھارہا ہے ایک طرف ریاست کی ظلم و ناانصافیاں بلوچ کو برابری کا درجہ نہ دینا اور دوسری طرف انتہا پسندی چایئے و مذہبی ہو یا قوم پرستی بلوچ بیچ میں سینڈوچ بنا بیٹھا ہے۔