|

وقتِ اشاعت :   December 15 – 2020

کوئٹہ: نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی)کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی تحریک کامیابی سے ہم کنار ہوگی، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی پی ڈی ایم تحریک کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتی ہے ،گوادر میں باڑ لگانے کی مذمت کرتے ہیں ، ملک میں 1947سے آمرانہ نظام بلواسطہ یا بلا واسطہ رائج ہے جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

بلوچستان کی عوام نے کبھی ظالمانہ ، جابرانہ اور مسلط شدہ پالیسیوں کو قبول نہیں کیا ہے بلکہ ان کے خلاف روز اول سے جدوجہد کرتے آرہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چنگیز حئی بلوچ ایڈووکیٹ ، ثنا بلوچ ، خالدہ قاضی ایڈووکیٹ اور رازق بلوچ کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں باڑ لگانے کا منصوبہ قبضہ گیر پالیسیوں کا تسلسل ہے۔

اس منصوبہ سے قبل صوبے کی ساحلی پٹی کو ہتھیانے کی کوشش کی گئی بلکہ پہلے سندھ کو 2 صوبوں میں تقسیم کرنے کی کوششیں کی گئیں اور اب بلوچستان کو جنوبی اور شمالی بلوچستان کے نام پر 2صوبے بنانے کی باتیں کی جارہی ہیں مگر ایسا کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں باڑ لگانے منصوبے کے خلاف تمام قوم پرست پارٹیوں کو متحد ہونا ہوگا کیونکہ مذکورہ منصوبے سے نہ صرف گوادر کے عوام تقسیم ہوں گی۔

بلکہ ساحلی پٹی سے تعلق رکھنے والے ماہی گیروں کا معاشی نقصان ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ماہی گیروں کو سہولیات کی فراہمی کی بجائے ان کا معاشی قتل عام کسی صورت بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا ۔ گوادر میں باڑ منصوبے کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے لئے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی قوم پرست پارٹیوں کے ساتھ رابطہ کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 1947سے آمرانہ نظام بلواسطہ یا بلا واسطہ رائج ہے۔

جس کے خلاف روز اول سے جمہوری قوتیں جدوجہد کرتی آرہی ہیں جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کبھی بھی قوموں کی حقوقِ سے دستبردار نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل ہونے والے اختیارات دوبارہ چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ عوام کی تحریک ہے۔

اگر پی ڈی ایم کے قائدین مستقل مزاجی سے کام لے تو کامیابی سے ہمکنار ہوں گے ۔ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی نہ صرف پی ڈی ایم کی تحریک مکمل طور پر حمایت کرتی ہے بلکہ اس سلسلے میں عوام ، ماہی گیروں ، دانشوروں ، ادیبوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں کردار ادا کرے کیونکہ یہ کسی ایک قوم یا طبقے کے مفاد کے لئے جدوجہد نہیں بلکہ یہ ملک کی تمام طبقات کے لئے ہے ۔