کوئٹہ: ورلڈ وائد فنڈ فار نیچر(ڈبلیو ڈبلیو ایف ) نے بلوچستان کے ضلع گوادر میںواقعہ جزیرے استولا (ہفت تالار) کو محفوظ ماحولیاتی نظام کا حامل جزیرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ استولا پر مونگے کی رہائشگاہوں کے قریب اہم اور نایاب مچھلیوں اور بڑی تعداد میں سمندری حیات کی موجود ہے استولا جزیرے کے محفوظ ترین سمندری مقام پر کورال/مونگے کی رنگت میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی استولا جزیرہ ملک کا پہلا محفوظ سمندری مقام ہے۔
پاکستان استولا جزیرے کے دیرپا تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے ۔ یہ بات ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تکینکی معاون محمد معظم خان اور انڈس اسکوبہ ڈائیورز کے مومن زیدی نے بتائی ، انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف نے انڈس اسکوبہ ڈائیورز نے 3سے 6دسمبر تک گوادر کے علاقے پسنی سے 40کلو میٹر دور اقعہ استولا جزیزہ (ہفت تالار ) کاجائزہ لیا ۔
جہاں انکے مشاہدے میں انتہائی صحت مند سمندری ماحولیاتی نظام آیا انہوں نے کہا کہ جزیزے پر چرنا جزیرے کی طرز پر کورال کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچا اورعلاقے میں اہم مچھلیاں، بیراکوڈا، ٹری ویلیز، ہوٹ لپس،لوبسٹر، فین وارم ، سی ارچن، سافٹ کورل بھی ملے ،مشاہدے کے دوران غوطہ خوروں کو چارکلومیٹر کے فاصلے پر ایک سمندری جہاز کا ملبہ بھی ملا جس میں بھی سمندی حیات موجود تھیں۔
انہوں نے کہا کہ جزیرے پر سبز کچوے نے انڈے بھی دئیے ہیں جس سے اسکی نسل کی افزائش ہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ استولا جزیرے میں کسی بھی قسم کی بلچنگ کا عمل نہیں ہوا جو کہ خوش آئند ہے استولا جزیزے پر سمندری حیات اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ جزیرے پر 19اقسام کے زمینی جبکہ 87اقسام کے سمندری پرندے موجود ہیں ،جبکہ جزیرے پر 82اقسام کے پودے، 23اقسام کے کورال ، 156اقسام کی مچھلیاں بھی موجود ہیں ۔