کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی ڈسٹرکٹ کوئٹہ کے نائب صدرطاہرشاہوانی ایڈووکیٹ نے گوادر میں باڑ لگانے کے منصوبے کو آئین وقانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کبھی بلوچستان کے ساحلی پٹی کو وفاق کے حوالے کرنے کی کوششیں جاتی ہیں تو کبھی گوادر میں باڑ لگا کر شہر کو نو گو ایریا بنانے کا منصوبہ شروع کردیا جاتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ گوادر میںباڑ لگانے کا منصوبہ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں کیونکہ اس سے نہ صرف گوادر شہر گوادر ضلع اور بلوچ علاقوں سے الگ ہوگا بلکہ اس سے مقامی افراد کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ کئی پر سکول باڑ کے اندر اور آبادی باڑ کے باہر ہے تو کئی پر مسجد باڑ کے اندر ہے اور مقتدر باہر ہے ایک کلو میٹر کا فاصلہ کی بجائے اب لوگوں کو 15سے 20کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا ۔
انہوں نے کہا کہ گوادر صوبے کا پرامن ترین ضلع ہے مگر وہاں پر سیکورٹی کے نام پر باڑ لگا کر بلوچ عوام کے آئینی حقوق غصب کئے جارہے ہیں ۔ بلوچستان نیشنل پارٹی نے کبھی بھی بلوچ قوم کے ساحل وسائل اور حقوق پر سودے بازی کی ہے اور نہ ہی کبھی بلوچ دشمن اقدامات پر خاموش آرہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو جو اختیارات ملے تھے۔
آج انہیںدوبارہ چھیننے کی کوششیں کی جارہی ہیں ، آٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبے اپنے فیصلوںمیںخودمختار ہے مگر یہاں بلوچستان کے ساحلی علاقے کو وفاق کے حوالے کرنے کی مذموم سازشیں جاری ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ گوادر میں باڑ لگانے کا منصوبہ بلوچستان کی ساحل و سائل پر قبضے کے مترادف ہے ۔ بلوچ قوم مادر وطن کی دفاع جانتی ہے کسی کو بھی اپنی سرزمین اور وطن پر قبضہ کرنے نہیں دیں گے بلکہ ایسے کسی بھی کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔