|

وقتِ اشاعت :   December 16 – 2020

کو ئٹہ: بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جنا ب جسٹس جما ل خان مندوخیل کی سر برا ہی میں پا نچ رکنی لا رجر بنچ نے ڈیفنس ہا ئوسنگ اتھارٹی(ڈی ایچ اے ) ایکٹ 2015 ء کی بعض شقات کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے انہیں کالعدم قرار دیا اور حکم دیاہے کہ ڈی ایچ اے کو اراضی کے حصول کی اجازت غیر آئینی اقدام ہے صرف وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوامی مفاد میں زمین حاصل کرسکتی ہیں۔

صوبائی حکومت اور قانون سازوں نے آئینی طور پر سرکاری ادارے کی بجائے غیرسرکاری ادارے کو فوقیت دی قانون سازوں کو قانون سازی اور ترامیم کا اختیار حاصل ہے لیکن اسے آئینی شق سے متصادم نہیں ہوناچاہئے۔یہ حکم گزشتہ روز بلو چستان ہا ئی کو رٹ کے چیف جسٹس جنا ب جسٹس جمال خان مندوخیل ،جسٹس جنا ب جسٹس نعیم اختر افغان،جسٹس جناب جسٹس محمدہاشم کاکڑ،جسٹس جنا ب جسٹس عبدالحمیدبلوچ اور جسٹس جنا ب جسٹس عبداللہ بلوچ پر مشتمل پا نچ رکنی ۔

لا رجر بنچ نے کاشف کا کڑ پا نیزئی و دیگر کے حکومت بلو چستان و دیگر کے خلا ف آئینی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا تے ہو ئے دیا۔ مذکو رہ آئینی درخواستوں کی سما عت کے دوران درخواست گزاران کی جا نب سے علی زیدی ایڈووکیٹ ،حبیب طا ہر ایڈووکیٹ ،محمد اسحاق ناصر ایڈووکیٹ ،جبکہ ریسپونڈینٹس نمبر 2 اور نمبر 5کی جا نب سے عرفان قادر، محمد عامر را نا ، عدنان بشارت اور محمد عارف اچکزئی ایڈووکیٹ نے پیروی کی۔

اس کے علا وہ صو با ئی حکومت کی جا نب سے ایڈووکیٹ جنرل بلو چستان ارباب طا ہر کا سی ،اسسٹنٹ اٹا رنی جنرل طا ہر اقبال خٹک ،اور کو ئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جا نب سے روبینہ شاہین ایڈووکیٹ پیش ہو ئے ۔ آئینی درخواستوں پر گزشتہ سما عت کے دوران فریقین کے وکلا ء کے دلا ئل مکمل ہو نے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا جسے بدھ کے روز چیف جسٹس بلو چستان ہا ئی کورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل نے پڑھ کرسنایا۔

آئینی درخواست کے فیصلے میں عدالت نے ڈی ایچ اے ایکٹ 2015کی شق نمبر دو۔ کیو۔ چھ بی 1-14,14بی کو آئین کے متصادم قرار دیا بلکہ عدالت نے ڈی ایچ اے کے ایگزیکٹیو بورڈ کو مخصوص علاقے کے استعمال کی دی گئی اجازت کو بھی کالعدم قرار دے دیا عدالت نے حکم دیا کہ ڈی ایچ اے کو اراضی کے حصول کی اجازت بھی غیر آئینی اقدام ہے۔

صرف وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوامی مفاد میں زمین حاصل کرسکتی ہیں۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ 2015میں اس وقت کی حکومتوں کو یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ نجی یا غیرسرکاری ادارے کو زمین کے حصول کا اختیاردے سکیں۔

صوبائی حکومت اور قانون سازوں نے آئینی طور پر سرکاری ادارے کی بجائے غیرسرکاری ادارے کو فوقیت دی قانون سازوں کو قانون سازی اور ترامیم کا اختیار حاصل ہے،لیکن اسے آئینی شق سے متصادم نہیں ہوناچاہئے عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ جس طرح ڈی ایچ اے 2015ایکٹ کی قانون سازی ہوئی وہ اس وقت کی حکومت اور اراکین اسمبلی کی نااہلی اورعدم قابلیت ظاہر کرتی ہے۔