|

وقتِ اشاعت :   December 16 – 2020

کوئٹہ: انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) بلوچستان نے مونگھے کی چٹانوں کے سفید ہونے سے متعلق حتمی رپورٹ جاری کردی رپورٹ میں چرنا جزیرے پر سیاحتی سرگرمیوں ،مچھلی کی شکار ،کشتیوں کی لنگرانداز ہونے ،صفائی ستھرائی پر پابندی کی سفارش کی گئی ہے۔

بلکہ مونگھے کے چٹانوں کے سفید ہونے سے متعلق وسیع سروے کرانے ،جزیرے پر ای پی اے مانیٹرنگ اسٹیشن قائم کرنے اور چرنا کو میرین پروٹیکٹڈ ایریا ڈکلیئر کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے ۔آن لائن کو محکمہ تحفظ ماحولیات بلوچستان کی جانب سے جزیرہ چرناکے قریب مونگے کی چٹانوں کی سفید ہونے سے متعلق قائم ماحولیاتی ٹیکنیکل ٹیم کی رپورٹ موصول ہوگئی ۔

واضح رہے کہ محکمہ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) بلوچستان کی جانب سے چرنا جزیرہ مونگھے کے چٹانوںکے سفید ہونے سے متعلق ماحولیاتی ٹیکنیکل ٹیم تشکیل دی گئی تھی ٹیم کی سربراہی ڈائریکٹر ٹیکنیکل انجینئر محمد خان اتمانخیل جبکہ دیگر میں ٹیم میں میرین یونیورسٹی کے پروفیسرز،آبی ماہرین سمیت غوطہ خور شامل تھے ،ڈائریکٹر ٹیکنیکل انجینئر محمد خان اتمانخیل کے مطابق ماحولیاتی ٹیکنیکل ٹیم کی جانب سے حب چائنہ پاور پلانٹ ،گڈانی سے پانی کے نمونے جمع۔

ماحولیاتی تبدیلی اور مستقبل میں آبی حیات اور ماحول کو محفوظ بنانے کیلئے اپنی سفارشات متعلقہ حکام کو فوری ارسال کرئے گی،گزشتہ روز ماحولیاتی ٹیکنیکل ٹیم نے مونگھے کی چٹانوں کے سفید ہونے سے متعلق حتمی رپورٹ جاری کردی،رپورٹ میں کہاگیاہے کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ مونگھے کی چٹانیں کسی صنعتی آلودگی کے باعث سفید ہورہی ہیںرپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ چرناجزیرے کے قریب مونگے کی چٹانوں کے سفید ہونے سے متعلق وسیع سروے کیاجائے۔

بلکہ چرنا جزیرے پر ای پی اے مانیٹرنگ اسٹیشن قائم کیاجائے رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ مذکورہ جزیرے پر تفریحی سرگرمیوں ومچھلی کی شکار پر پابندی عائد کی جائے ،چرنا جزیرے کے قریب کشتیوں کے لنگرانداز ہونے اور صاف صفائی پر پابندی عائد کی جائے ،ماحولیاتی ٹیکنیکل ٹیم کی جانب سے سفارش کی گئی ہے کہ چرنا جزیرے کومیرین پروٹیکٹڈ ایریا ڈکلیئر کیاجائے ۔پاکستان میں مونگے کی چٹانیں چرنا، استولا،اورماڑہ،گوداراور جیوانی کچھ مخصوص علاقوں تک محدود ہیں۔