کوئٹہ: وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان اور تمام متعلقہ فریقوں کے پختہ عزم اور لگن کی بدولت ان اصلاحات کو بامعنی اور پائیدار شکل ملی ہے،صوبے نے طرزحکمرانی کا ایک مضبوط اور فعال نظام تشکیل دینے میں کامیابی حاصل کر لی ہے ،’قانون کی حکمرانی روڈمیپ’ پراجیکٹ کے تحت بلوچستان نے نمایاں پیشرفت دکھائی ہے۔
یہ بات انہوں نے بدھ کو مقامی ہوٹل میں ‘بلوچستان قانون کی حکمرانی روڈمیپ’ کی سٹیرنگ کمیٹی کے چوتھے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پریو این او ڈی سی پاکستان کے نمائندیجیریمی مِلسم ، ایڈیشنل چیف سیکرٹر ی محکمہ داخلہ و قبائلی امور بلوچستان حافظ عبدالباسط سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا، وزیر داخلہ و قبائلی امورضیاء اللہ لا نگو نے اس روڈمیپ کے تحت فوجداری نظام انصاف کے لئے وضع کی گئی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکو مت بلوچستان ،یو این او ڈی سی اور برٹش ہائی کمیشن کی معاونت سے منصوبے پر عملدرآمد کر رہی ہے۔
صوبے نے طرزحکمرانی کا ایک مضبوط اور فعال نظام تشکیل دینے میں کامیابی حاصل کر لی ہے جس کے تحت اس میدان میں مختلف اداروں کی شمولیت سے، شواہد پر مبنی اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھایا جا رہا ہے حکومت بلوچستان اور تمام متعلقہ فریقوں کے پختہ عزم اور لگن کی بدولت ان اصلاحات کو بامعنی اور پائیدار شکل ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث شدید مشکلات کے باوجود روڈمیپ پر پیشرفت کا عمل جاری رہا۔
جسے تمام متعلقہ فریقوں نے سراہا ہے ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور حافظ عبدالباسط نے سٹیرنگ کمیٹی کے ارکان کو ایک اور اہم سنگِ میل کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے پی سی ون کی حتمی منظوری دے دی ہے اور روڈمیپ کے تحت صوبے میں قانون کی حکمرانی اصلاحات کے لئے 500 ملین روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔
انہوں نے اس منظوری کے سلسلے میں انتھک کام کرنے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے یو این او ڈی سی پاکستان کے نمائندیجیریمی مِلسم نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی مربوط کوششوں کی بدولت قانون کی حکمرانی اصلاحات پر پیشرفت خاطرخواہ رہی ہے تاہم وقت کا تقاضا ہے کہ ان کو آگے بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور ایسی مضبوط اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے پر زور دیا جائے۔
جو فوجداری انصاف کے اداروں کو انسانی حقوق کے تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ بنائیں اور صنفی تشدد جیسی مشکلات کو دور کرنے کے لئے صوبے میں قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کو فروغ دیں۔
اس موقع پر شرکاء کو صوبے میں فوجداری انصاف کے اداروں کی کارکردگی کے بارے میں شہریوں کے خیالات کے تجزیہ سروے اور بیس لائن سٹڈی سے حاصل ہونے والی اہم معلومات سے بھی آگاہ کیا گیامنصوبے کے ڈلیوری یونٹ نے اجلاس کو بالخصوص ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے شعبے میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا۔