|

وقتِ اشاعت :   December 17 – 2020

اسلام آباد: جے یو آئی (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری نے لاہور جلسے کے بعد بنائے گئے مقدمات پر سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ لاہور جلسہ فقید المثال تھا ، اگر کوئی نابینا ہے تو ہمارا کوئی قصور نہیں ،گوادر کو باڑ لگا کر بند کرنا بدنیتی پر مبنی ہے،قبل ازوقت سینٹ انتخابات غیر آئینی ہیں،آئین کے مطابق سینیٹ انتخابات مارچ میں ہوں گے۔

موجودہ حکمران شو پیس ہیں ، تم سے مذاکرات نہیں ہوسکتے ، پی ڈی ایم چاروں صوبوں میں احتجاج کریگی ۔جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی سیکرٹری جنرل و پی ڈی اہم کے مرکزی نائب صدر سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پی ڈی ایم نے 6 کامیاب جلسے کئے ،جہاں حکومت نے رکاوٹ کھڑی کی وہ جلسہ زمیادہ کامیاب ہوا،لاہور جلسے سے دو روز قبل افواہ پھیلائی کہ اداروں نے کہا کہ جلسہ نہیں ہونے دیں گے۔

لاہور جلسہ تاریخ ساز اور فقید المثال تھا،بعض میڈیا کے دوستوں نے جلسہ کی تعداد دو سے پانچ ہزار بتائی،اگر کوئی نابینا ہے تو ان کا کوئی قصور نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ لاہور جلسے میں ہمارے اوپر مقدمات بنائے جو قابل مذمت ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ آرمی پبلک سکول کا واقعہ ہم آج تک نہیں بھو۔ انہوںنے کہاکہ گوادر کو باڑ لگا کر بند کرنا بدنیتی پر مبنی ہے۔ گزشتہ روز ام نہاد وزیراعظم کی صدارت میں کابینہ اجلاس میں سینیٹ اجلاس فروری میں کرنے کی خبر سامنے آئی۔

اس کا مطلب ہے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے،قبل ازوقت انتخابات غیر آئینی ہئیں ،آئین کے مطابق سینیٹ انتخابات مارچ میں ہوں گے ۔انہوںنے کہاکہ جب کوئی یمارا جلسہ کامیاب ہوجائے تو مولانا فضل الرحمن پر آمدنی سے زائد اثاثوں کا الزام لگ جاتا ہے،جھوٹے پراپیگنڈہ سے کچھ نہیں ہوگا۔مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ لاہور جلسے سے عمرانی حکومت کی چیخیں نکل گئیں،حکومت بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا شکار ہے۔

انہوںنے کہاکہ حکومت اس قابل ہے کہ ان سے مذاکرات ہے؟ ،آپ شو پیس ہو اور تم سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ انہوںنے کہاکہ پی ڈی ایم چاروں صوبوں میں احتجاجی جلسے کرے گی،کراچی 4 جنوری کے علاوہ سکھر حیدر آباد میں بھی جلسے ہوں گے،مولانافضل الرحمان اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کریں گے۔