|

وقتِ اشاعت :   December 17 – 2020

صحبت پور: وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے ضلع صحبت پور کا دورہ کیا۔ صحبت پور پہنچنے پر وزیراعلیٰ کا صوبائی وزیر ریونیو میر سلیم احمد کھوسہ نے استقبال کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر عارف جان محمد حسنی، مشیر محنت افرادی قوت حاجی محمد خان لہڑی،رکن صوبائی اسمبلی میر جان محمد جمالی، کمشنر نصیرآباد ڈویژن عابد سلیم قریشی، صوبائی سیکریٹریز غلام علی بلوچ، محمد ہاشم غلزئی، محمد سلیم اعوان اور علاقے کے عمائدین و معتبرین بھی موجود تھے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے صحبت پور تا کشمور روڈ کا باقاعدہ سنگ بنیاد رکھا۔

ایکسین بی اینڈ آرجہانگیر خان کھوسہ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو روڈ کی تعمیرات کے متعلق تفصیل سے بریفنگ دی۔اس کے علاوہ وزیراعلیٰ نے حیردین میں الحاج میر نبی بخش خان کھوسہ ڈگری کالج اور ڈسٹرکٹ کمپلیکس کی عمارتوں کاسنگ بنیاد بھی رکھا۔بعد ازاں صوبائی وزیر ریونیو میر سلیم احمد کھوسہ کی جانب سے کھوسہ ہاؤس صحبت پور میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں علاقہ معتبرین آفیسران سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

اس موقع پر صوبائی وزیر میر سلیم احمد کھوسہ نے وزیراعلیٰ جام کمال خان کو روایتی بلوچی پگڑی پہنائی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان ملک کے دیگر صوبوں سے ترقی کے لحاظ سے کمزور ضرور ہے لیکن ہم اتنے بھی کمزور نہیں کہ اپنے مسائل خود حل نہ کر سکیں ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت سنبھالتے ہی بلوچستان بھر میں یکساں طور پر ترقیاتی اسکیمات متعارف کروائیں تاکہ صوبے بھر میں ترقی و خوشحالی آئے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ ادوار میں بلوچستان میں انفرادی طورپرمن پسنداضلاع میں ترقی کے منصوبے شروع کیے گئے جو تاحال مکمل نہیں ہوئے ہم گزشتہ ادوار کے حکمرانوں کے منصوبے ابھی مکمل کررہے ہیں تاکہ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے بننے والے یہ ترقیاتی منصوبے اپنے پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں۔

اسکول کی عمارتیں، سڑکوں سمیت صوبے میں ایسی بھی اسکیمات ہیں جو کئی سالوں سے تاحال مکمل نہیں ہو سکی ہیں۔ سابقہ ادوار میں من پسند اسکیمات پی ایس ڈی پی میں شامل کروائی گئیں اگر ہم بھی ان منصوبوں کو ادھورا چھوڑ دیں تو یہ عوام کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ہم ایک جامع حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں اور ایسے ترقیاتی منصوبے متعارف کروارہے ہیں۔

جو عین عوام کی امنگوں کے مطابق ہیں۔ ہماری پارٹی کا منشور صرف بلوچستان کی ترقی اورخوشحالی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان گزشتہ کئی سالوں سے پسماندگی کا شکار رہا ہے اور یہاں پر کبھی مذہب تو کبھی انسانیت کے نام پر لوگوں کو آپس میں لڑایا گیا،اللہ نے ہمیں جو وسائل دیئے ہیں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کا صحیح معنوں میں عوام پر استعمال کریں۔اگر ہم بھی یہی طریقہ اپناتے جو ماضی میں اپنایاگیا۔

تو بلوچستان اگلے50سال تک ترقی نہیں کرسکتا۔ہم مستقبل کو ملحوظ خاطر رکھ کر صحیح معنوں میں منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ صوبہ ہم سب کا ہے اب ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم آگے آکر صوبے کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک ترقی یافتہ صوبہ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ہم ترقیاتی کاموں پر خصوصی توجہ دیکر یہاں کے عوام پر کوئی احسان نہیں کر رہے ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بلاامتیاز صوبے بھر کی عوام کی خدمت کریں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے لسبیلہ سے زیادہ اپوزیشن کے حلقوں میں اسکیمات دیں ہیں تاکہ ان علاقوں کے عوام کو احساس محرومی سے نکالا جاسکے۔ پچھلی حکومتوں کی غیر منصفانہ اورنامناسب منصوبہ بندی کا خمیازہ آج عوام بھگت رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحبت پور ٹو کشمور روڈ گیم چینجر منصوبہ ہے اس سے علاقے میں مزید ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی جس کے ثمرات عوام تک پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں تعلیم کو مزید وسعت دی جا رہی ہے اور صوبے بھر کے تمام اضلاع میں بوائز اور گرلز کالج قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں جہالت کے اندھیرے سے نکل سکیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت زرعی پروگرام لار ہی ہے۔

جس کے تحت کسانوں کو ٹریکٹرزاور بلڈوزر فراہم کیے جائیں گے جبکہ بے روزگاری کے خاتمے کے لئے دس ہزارچنگچی گاڑیاں بھی دی جائینگی، بلوچستان میں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے کینسر ہسپتال کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ مقامی سطح پر اس مہلک مرض کا تدارک کیا جاسکے جبکہ بلوچستان عوامی انڈوومنٹ فنڈ کے تحت صوبے بھر کی عوام کا سات سے زائد بڑے مہلک امراض کے علاج معالجہ کے اخراجات بھی صوبائی حکومت برداشت کر رہی ہے۔

ملک کے بڑے ہسپتالوں میں ماہر ڈاکٹروں کے ذریعے عوام کا مفت علاج معالجہ کو یقینی بنا رہے ہیں۔وزیرعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں انڈسٹریل زونز کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے تاکہ لوگ باوقار طریقے سے اپنا روزگار کر سکیں۔

اور صوبے سے بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہو۔ وزیرعلیٰ نے کہا کہ نصیرآباد ڈویژن میں واٹر فلٹریشن پلانٹس قائم کرنے کیلئے آئندہ بجٹ میں رقم مختص کی جائے گی تاکہ عوام کو صاف ستھرے پانی کی فراہمی ممکن ہوسکے۔