کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ نے سوئی سدر ن گیس کمپنی کے حکام اور چیف سیکرٹری بلوچستان کو صوبے میں گیس بل کے حوالے سے درپیش مسئلے پر پیٹرولیم ڈویژن سے رابطہ کرنے اور ضلعی انتظامیہ اور سوئی سدرن گیس کمپنی کو کوئٹہ شہر میں غیر قانونی طور پر استعمال کئے جانے والے گیس کمپریسر ز کے خلاف کاروائی کے احکامات دیتے ہوئے 10دن میں رپورٹ طلب کرلی۔
ہفتہ کو بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندخیل اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بیچ نے کوئٹہ شہر میں گیس کے بھاری بھرقم بل اور پریشر کی کمی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی ۔سماعت کے دوران جی ایم سوئی گیس مدنی صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ گیس پریشر کو بڑھا کر 200ایم ایم سی ایم ڈی کردیا گیا ہے تاہم کوئٹہ شہر میں غیر قانونی کمپریسرز کی تنصیب کی وجہ سے گیس پریشر کم ہے۔
کمپریسرز کے خاتمے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں سماعت کے دوران چیف سیکرٹری نے عدالت کو آگاہ کیا کہ گیس پریشر کے مسئلے اور پلنگ کے مسئلے کو سوئی گیس حکام اور مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے اٹھایا گیا ہے عدالت نے جی ایم سوئی گیس کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی طور پر گیس پریشر کے مسئلے کی نگرانی کریں اور چیف سیکرٹری و روز مرہ رپورٹ جمع کروائیں جبکہ چیف سیکرٹری اور جی ایم سوئی گیس مشترکہ طور پر گیس پریشر کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے کے اقدامات اٹھائیں۔
عدالت نے احکامات دئیے کہ جی ایم سوئی گیس صوبے میں بلنگ کے حوالے سے مسئلے کے حل کے لئے وفاقی حکومت کو پروپوزل دیں جبکہ سیکرٹری پیڑولیم اورسوئی گیس حکام بلوچستان کے موسم اور لوگوں کے مالی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بلنگ کے مسئلے کے حل کے اقدامات کریں جبکہ چیف سیکرٹری خود بھی سیکرٹری پیڑولیم اور ڈی جی گیس سے رابطہ کریں۔
عدالت نے احکامات دئیے کہ سوئی گیس اور ضلعی انتظامیہ کمپریسر کے تدارک کے لئے اقدامات کرتے ہوئے ہر ممکن اقدامات کریں جبکہ جی ایم سوئی گیس آئندہ سماعت پر اس حوالے سے رپورٹ جمع کروائیں جس کے بعد کیس کی سماعت 10روز تک ملتوی کردی گئی ۔