|

وقتِ اشاعت :   December 19 – 2020

کوئٹہ: امیدواران برائے میڈیکل اور لیڈی میڈیکل آفیسران ڈاکٹر میروائس، ڈاکٹر وکیل و دیگر نے کہا ہے کہ پبلک سروس کمیشن کے ٹیسٹ میں بے قاعدگیاں ہوئیں جن کی بناء پر ٹیسٹ کو مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں ٹیسٹ نتائج میں موجود بے قائدگیوں کو دور کرکے دوبارہ تنائج کا اعلان کیا جائے یہ بات انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے 866میڈیکل آفیسر اور 372لیڈی میڈیکل آفیسر کی آسامیوں کا اعلان کیا جن میں سے صرف 363امیدواروں کو پاس کیا گیا جبکہ باقی پوسٹوں کو ایک بار پھر عارضی بھرتیوں کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ایک ہی گریڈ کے لئے 12مختلف ٹیسٹ لئے گئے ، ٹیسٹ سیشن بھی یکسرمختلف تھے، ٹیسٹ میں درجن سے زائد غلطیاں موجود تھیں ۔

جنکی موقع پر نشاندہی کی گئی ،ٹیسٹ سافٹ ویئر میں سوال اسکپ کرکے دوبارہ حل کرنے کا آپشن موجود نہیں تھا جبکہ بعض سوالات بھی ادھورے تھے انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے بھی پبلک سروس کمیشن کے چیئر مین سمیت ممبران سے ملاقات کرکے انہیں حقائق سے آگاہ کیا اور انہوں نے غلطیوں کا ازالہ کرنے کی یقین دہانی کروائی تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی کنٹریکٹ انٹرویو میں پیش نہیں ہونگے اور حکومت ، پبلک سروس کمیشن فوری طور پر اپنی غلطیوں کا ازالہ کرے بصورت دیگر عدالت سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کے تالے لگا کر پبلک سروس کمیشن کے گیٹ پر دھرنابھی دیں گے