|

وقتِ اشاعت :   December 20 – 2020

کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ بیان میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے زیر اہتمام صوبے بھرمیں احتجاجی مظاہروں کا اعلان اس جمہوری تحریک کی مضبوطی اور فعالیت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد لانگ مارچ کیلئے عملی طور پر فائندہ مند ثابت ہوگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم کی جانب سے صوبے کے دیگر اضلاع کے طے شدہ شیڈول کے بعد کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوگا۔

جس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائیگا اور آج 21دسمبر کو کوئٹہ میںپی ڈی ایم کا کوئی احتجاجی مظاہرہ نہیں ہوگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخوامیپ ضلع لورالائی کی ضلعی پارٹی13جنوری اور چمن کی ضلعی پارٹی 17جنوری کو ہونیوالے احتجاجی مظاہرے کیلئے بروقت تیاریاں شروع کرتے ہوئے زندگی کے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی دعوت دیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک پر مسلط نااہل ،ناتجربہ کار حکومت ہر شعبہ زندگی میں بدترین طو رپر ناکام ہوچکی ہے لیکن ان میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ اپنی نااہلی ،ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہوجائیں بلکہ شروع دن سے عوام کو طفل تسلی دی جارہی ہے کہ جلد ہی تبدیلی آئیگی اور حالات بہتر ہوجائینگے یہ تبدیلی بھی ایسی ہی ہے جیسے ان کے دھرنے کے دوران ایمپائر کی انگلی کے اٹھنے کا انتظار کیا جاتا رہا۔

جبکہ منتخب عوامی جمہوری حکومت کو گرانے ، پارلیمنٹ پر حملہ کرنے ، جمہور کی حکمرانی کو ختم کرنے ، سویلین نافرمانی کا اعلان کرنے ، ملکی اداروں پر حملہ کرنے ، سیاسی جماعتوں کے اکابرین پر بہتان لگانے ان کی پھگڑیاں اچالنے اور ہر بیانیہ پر یوٹرن لیکر بعد میں یوٹرن کو سیاست کا حصہ قرار دینے والے سلیکٹڈ حکمران ملکی امور چلانے سے مکمل طور پر عاری ہیں اور اپنی ناتجربہ کاری کے باعث تمام ملکی اداروں کی ساکھ کو دائو پر لگاچکے ہیں ۔

اور عوامی شعبہ زندگی کے ادارں کو مفلو ج کردیا گیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخوامیپ ملک کی میڈیا پر زور دیتی ہے کہ وہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے اور سلیکٹڈ حکومت کی کرپشن وکمیشن اور مہنگائی ،بیروزگاری کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں میڈیا خود بھی سلیکٹڈ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں واقدامات سے دوچار ہوئی ہے مختلف نیوز ادارو ں کی بندش، ملازمین کی برطرفی ، تنخواہوں کی عدم فراہمی سے میڈیا کا شعبہ بھی مفلوج ہوچکا ہے ۔

اگر میڈیا نے جمہور کی حکمرانی ،آئین کی بالادستی ، پارلیمنٹ کی سپرمیسی ، ووٹ کی تقدس کے احترام ، عدلیہ ومیڈیا کی آزادی، قوموں کی برابری پر حقیقی جمہوری فیڈریشن ، ملک میں فوج اور جاسوسی اداروں کی مداخلت کے بغیر صاف شفاف غیر جانبدارنہ انتخابات کے انعقاد کیلئے اپنا فریضہ ادا نہیں کیا تو وہ بھی سلیکٹڈ حکومت کے ساتھ ساتھ ملک کی تباہی کے مجرم ہونگے ۔